الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 443
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 1۔کان جو قوت سماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔2 آنکھیں جو قوت باصرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔429 اسی ترتیب کو ملحوظ رکھتے ہوئے سماعت کے بارہ میں ہم قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت سے بات شروع کرتے ہیں۔وَاللهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ( النحل 79:16 ) ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا جبکہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تا کہ تم شکر ادا کرو۔قارئین کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ عربی لفظ الفواؤ جس کا ترجمہ دل کیا جاتا ہے، سے مراد انسان کا جسمانی دل نہیں بلکہ اس کا فہم و ادراک ہے۔قرآن کریم کی بہت سی آیات بڑی تحدی کے ساتھ اس دلیل کی تائید کرتی ہیں۔مثلاً : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ( النجم 12:53 ) ترجمہ۔اور دل نے جھوٹ بیان نہیں کیا جو اس نے دیکھا۔اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ پر خدا تعالیٰ کی تجلیات کے ظہور کا ذکر ہے۔اب ظاہر ہے کہ یہاں دل ( الفؤاد ) کا لفظ استعارہ دماغ کیلئے استعمال ہوا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی تجلیات کا اندازہ جسمانی دل نہیں بلکہ دماغ کیا کرتا ہے۔اس ضروری وضاحت کے بعد ہم دوبارہ انسانی کان کی بناوٹ کا جائزہ لیتے ہیں۔کان کا بیرونی حصہ اذین aurical یا pinna کہلاتا ہے۔مختلف افراد میں اس کی بناوٹ قدرے مختلف ہوتی ہے۔نیز بعض کے کان بڑے ہوتے ہیں اور بعض کے چھوٹے۔لیکن ان سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔یعنی آواز کی لہریں جو کان کے بیرونی سوراخ کی طرف بھیجی جاتی ہیں ان کے جائے متاثرہ ( catchment area) کو بڑھانا۔یہاں سے سمعی نالی کا آغاز ہوتا ہے جو