الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 444
430 عضویاتی نظام اور ارتقا تقریباً ایک انچ لمبی ہوتی ہے جس کے استر سے نرم موم خارج ہوتا رہتا ہے۔اس ٹیوب کا سرا tympanic membrane یعنی کان کے پردہ یا بیلی جھلی سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔یہاں تک تو کان کا بیرونی حصہ تھا۔کان کا پردہ کان کے بیرونی اور اندرونی حصہ کی حد بندی کرتا ہے۔دونوں طرف ہوا کا دباؤ برابر رکھنے کیلئے ایک سمعی نالی eustachian tube) کان کے وسطی حصہ کو حلقوم (pharyax) سے ملاتی ہے۔یہ نظام انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کی بدولت پردہ (cardrum) دونوں طرف بآسانی ارتعاش پیدا کر سکتا ہے۔وسطی کان ایک نالی نما خلا کی شکل میں بیرونی آڈیٹری کینال اور اندرونی کان کے مابین واقع ہوتا ہے۔اس میں ہوا اور تین ossicles یعنی سمعی استیزے یا باہم مربوط چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہوتی ہیں جو آواز کی بیچ کو بڑھا کر صوتی لہروں کو طبلی جھلی (Tympanic membrane) یعنی کان کے پردہ سے اندرونی کان تک پہنچاتی ہیں۔یہ تین ہڈیاں بالترتیب malleus یعنی مطرقہ incus یعنی سندان اور stappes یعنی عظم رکاب کہلاتی ہیں۔امریکن اصطلاح میں انہیں hammer یعنی ہتھوڑا anvil یعنی اہرن اور stirrup یعنی معظم رکاب کہا جاتا ہے۔ان میں سے پہلی ہڈی طبلی جھلی سے جڑی ہوتی ہے جبکہ دوسری ہڈی پہلی اور تیسری ossicle یعنی سمعی استیزہ سے ملی ہوتی ہے۔تیسری ہڈی stapes یا stirrup یعنی عظم رکاب دوسری طرف ایک بیضوی سوراخ کی جھلی سے جڑی ہوتی ہے جس میں اس ہڈی کی حرکت کے ساتھ ساتھ ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور اس ارتعاش کو وہ اندرونی کان کی رطوبت میں منتقل کرتا ہے۔اندرونی کان مختلف نالیوں اور تھیلیوں کا مجموعہ ہے جو بیک وقت سماعت اور توازن دونوں کام سر انجام دیتا ہے۔یہ کان کا سب سے پیچیدہ حصہ ہے جو کھوپڑی کی ہڈی Temporal) (bone میں کھدے ہوئے تین الگ الگ حصوں پر یہ حصے مل کر bony labyrinth بناتے ہیں جس میں cochlea-vestibule اور semi circular canals یعنی عظمی نیم دائری قتالیس ہوتی ہیں۔یہ سب perilymph نامی رطوبت سے بھری ہوتی ہیں۔ان کی جھلیاں ایسے اعصابی خلیات سے پر ہوتی ہیں جو اپنے گرد اس رطوبت میں ہلکے سے تموج کو بھی محسوس کر لیتے ہیں۔عظمی نیم دائری قتالوں (boy semi circular canals) کی رطوبت کے اندر جھلی دار مشتمل۔