الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 442
428 عضویاتی نظام اور ارتقا۔4 بعد ازاں دماغ کا مرکزہ اس جمع شدہ معلومات کے ذخیرہ کو دماغ کے دیگر مرکزی حصوں میں منتقل کرتا ہے جو ان معلومات کو محفوظ کرتے ہیں اور جسم کے مختلف حصوں میں متعلقہ عصبی مراکز تک پہنچاتے ہیں۔اس انتہائی جامع عضویاتی نظام کی تشکیل کا حصہ بننے والے ہر عضو کی بناوٹ اور مقصد واضح ہے۔ہمارا اختلاف اس بات میں ہے کہ آنکھیں اور کان وغیرہ غلطی سے ایسے اعضاء سمجھے جاتے ہیں جو خود بخود ایک با مقصد کردار ادا کر سکتے ہیں۔حالانکہ یہ اعضاء تنہا اپنی ذات میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ یہ اسی وقت کارآمد ثابت ہوتے ہیں جب وہ اس اجتماعی نظام کی معیت میں کام کرتے ہیں جس کا وہ جز ولا ینفک ہیں۔نیز ان کی ظاہری بناوٹ کے بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعضاء بذات خود ذیلی نظاموں میں منقسم ہیں جو آگے چھوٹے چھوٹے اعضاء پر مشتمل ہیں۔یوں اپنی اجتماعی شکل میں یہ ذیلی نظاموں کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔یہ اعضاء اپنی ابتدائی حالتوں میں بھی بعینہ چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔مثلاً انسانوں سے لاکھوں سال قبل کے جانوروں کا بھری نظام بھی اسی طرح کی ایک بہت منظم اور محکم تر تیب پر مشتمل ہے اور یہ بھری نظام آگے بہت سے اعضاء پر مشتمل ہے اور اسے کسی بھی منطق کے ذریعہ نیچرل سلیکشن یعنی انتخاب طبعی یا ڈارون کے کسی اور اصول کے تحت واضح نہیں کیا جاسکتا۔ہم قارئین کے سامنے اس آنکھ کے علاوہ جس سے وہ بخوبی واقف ہیں مختلف قسم کی آنکھوں کی بناوٹ کی مثال پیش کرتے ہیں جو بیرونی دنیا کے اندرونی دنیا سے رابطہ کا کام دیتی ہیں۔اس عالمی اصول میں کوئی بھی استثناء نہیں۔ہمارا مقصد زیرک قارئین پر یہ واضح کرنا ہے کہ زیر بحث معاملات کے بنیادی ڈھانچہ کی تفصیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے ابتدائی خاکہ اور اس کو ڈیزائن کرنے والے کی کامل سائنسی قدرت کا مطالعہ نہ کر لیا جائے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر عضو کئی چھوٹے چھوٹے اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے جو بذات خود اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ان کی اندرونی ترکیب اور ہیئت کا مطالعہ فی ذاتہ ایک دفتر چاہتا ہے۔دو بنیادی اعضاء کسی جاندار کو کسی بے جان چیز سے ممتاز کرتے ہیں۔