الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 406
394 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح کے حوالہ سے حشرات الارض میں سے سب سے اہم ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ مچھر طباشیری (Cretaceous) دور (ساڑھے 6 سے 14 کروڑ سال قبل 5 میں وجود میں آئے جب جدید سائنسی درجہ بندی میں موجود اکثر حشرات اور پھولدار پودوں کا ارتقا شروع ہوا۔ایک اور اندازہ کے مطابق مچھر کی افزائش جراسک (Jurassic) دور ( یعنی 13۔6 کروڑ تا 19 کروڑ سال قبل) میں ہوئی۔چونکہ اس وقت تک ممالیہ جانوروں کی تخلیق نہیں ہوئی تھی اس لئے لازماً مچھر خزندوں یعنی رینگنے والے جانوروں، جل تھلیوں اور ابتدائی ممالیہ جیسے جانوروں یا شاید ڈائنوسار کے خون پر ہی گزارہ کرتے ہوں گے۔خون چوسنے کی یہ جبلی خواہش جو ماہرین حیاتیات کے نزدیک مچھر کی تخلیق کے قدیم دور میں پیدا ہوئی کئی سوالوں کو جنم دیتی ہے۔اگر یہ خون کے بغیر ہی محض سبزیوں کا رس چوس کر ایک لمبے عرصہ تک زندہ رہے تو پھر یہ خواہش پیدا ہی کیوں ہوئی ؟ اس زمانہ میں پھولدار پودے تو تھے نہیں اس لئے شاید یہ پتوں اور تنوں سے رسنے والی میٹھی رطوبت پر ہی گزارہ کرتے رہے ہوں۔6 مچھر دو پروں والے حشرات ہیں جو دو پروں والی مکھیوں (Diptera) کی فیملی Culicidae سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ دیگر تمام مکھیوں سے اپنے سر پر موجود لمبے ڈنک اور بعض دیگر منفرد خصوصیات کے لحاظ سے بھی مختلف ہیں۔مثلاً ان کے پروں کی رگوں پر چھلکے موجود ہوتے ہیں اور پچھلے کناروں پر چھلکوں کی ایک جھالر لٹک رہی ہوتی ہے جبکہ لمبائی کے رخ پر موجود دوسری، چوتھی اور پانچویں رگیں تقسیم ہو جاتی ہیں۔اس گروپ (Diptera) کے دوسرے ارکان کی طرح مچھر بھی اپنی تولید کے دوران میٹا مورفوسس (Metamorphosis) یعنی قلب ماہیت کے عمل سے گزرتا ہے لیکن یہ قلب ماہیت بعض صورتوں میں دوسری مکھیوں سے نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے۔انڈہ سے نمودار ہونے والا لا روا (Larva) اپنے والدین سے کسی طور بھی مماثلت نہیں رکھتا اور پانی میں رہ کر خوراک حاصل کرنے کیلئے انتہائی موزوں ہوتا ہے۔تعجب کی بات ہے کہ مچھر پر تحقیق کرنے والے تمام احباب اپنی تمام تر قابلیت اور اس کی