الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 407
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 395 بیرونی اور اندرونی ساخت سے متعلق مکمل علم رکھنے کے باوجود انتخاب طبعی کی کوئی واضح صورت پیش نہیں کر سکے جو منطقی لحاظ سے قابل قبول ہو اور اس تخلیقی عجوبہ کے ڈیزائن اور ساخت کو بیان کر سکے۔خون نہ چوسنے والے مچھروں کی خون چوسنے والے مچھروں میں تبدیلی کو اگر محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیا جائے تو اس کیلئے لا محدود وقت کی ضرورت ہوگی اور یہ سوچ تو نا قابل قبول حد تک ایک عجوبے سے کم نہ ہوگی کہ مچھر کی دونوں اقسام آہستہ آہستہ بیک وقت قدم بقدم اپنے اپنے اجزاء کے ساتھ الگ الگ لیکن بایں ہمہ با ہم کامل ربط کے ساتھ ارتقا کے عمل سے گزرتی رہیں۔یہ بات خاص طور پر پیش نظر رہے کہ جب تک مچھر اپنا ارتقا مکمل نہ کرلے اس کی زندگی میں درجہ بدرجه نامیاتی پیش رفت کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔مثلاً جب سائنسدان مچھر کے خون کی تلاش کرنے اور اس تک پہنچنے کی حاجت کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ادنی سی صورت کیلئے بھی ایک بہت ہی پیچیدہ مددگار نظام درکار ہے۔چھروں کو خوراک حاصل کرنے کیلئے ایک موزوں میزبان کی تلاش ہوتی ہے جس کیلئے اس کی اندرونی ساخت، اعضائے جس اور دیگر جسمانی اعضاء میں تبدیلیاں درکار ہوا کرتی ہیں۔مچھر کو اپنے ماحول میں بکثرت پائے جانے والے خارجی محرکات میں سے مناسب لحمیاتی ماخذ کی تلاش ہوتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق جس لائحہ عمل کے تحت ان کا ارتقا ہو وہ کچھ یوں ہے: رو و بصری محرکات حرارت اور مختلف مادوں مثلاً کاربن ڈائی آکسائیڈ، لیکٹک ایسڈ (Lactic acid) اور جلد تحلیل ہو جانے والے فیٹی ایسڈز (Fatty acids) کا امتزاج دموی 760 جانوروں کا خاصہ ہے جن پر مچھر اپنا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ایک اور مشکل جو مچھر کو درپیش ہوتی ہے یہ ہے کہ بو خارج کرنے والے کیمیاوی مادے ہوا کی لہروں پر منتشر ہو جاتے ہیں۔چنانچہ مچھر کو لازماً اپنے میزبان تک بالواسطہ پہنچنا پڑتا ہے جس کیلئے وہ میزبان کے جسم سے خارج ہونے والی حرارت کو محسوس کرتا ہے۔ان مراحل کے دوران مچھر کے طرز عمل کیلئے ایک محرک اور رد عمل کے نظام کا کامل صورت میں موجود ہونا ضروری ہے۔مچھر شعوری طور پر کسی میزبان کی تلاش نہیں کرتا بلکہ خارجی محرکات پر اپنے خود کار نظام کے تحت رد عمل ظاہر کرتا ہے۔