الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 405
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 393 میں تاسف کے پہلو کی قطعی نفی کی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چھر کے منفی کردار کیلئے ضروری تھا کہ اسے ایسا ہی بنایا جاتا۔دوسرے یہ کہ مچھر کا کردار منفی سہی لیکن نظام تخلیق میں اسے ایک اہم مقام کے منصوب حاصل ہے۔چنانچہ چھر کی تحقیق اور تکمیل کے لابدی امر کو اس کے خالق کیلئے باعث فخر سمجھنا چاہئے نہ کہ باعث شرم۔ہمارا اخذ کردہ نتیجہ محض اسی صورت میں درست ہوسکتا ہے جب مچھر میں پایا جانے والا غیر معمولی حسن دیگر انواع حیات کے حسن سے بھی زیادہ دلکش ہو۔مزید برآں یہ دریافت ہنوز سائنسدانوں کی توجہ کی محتاج ہے کہ روز مرہ کے نظام حیات اور اس کے ارتقا میں مچھروں کا وجود در حقیقت باعث زحمت نہیں بلکہ باعث رحمت ہے۔فی الحال ہماری رائے یہی ہے کہ عین ممکن ہے کہ ہماری قوت مدافعت کو بڑھانے اور اسے مکمل کرنے میں مچھروں نے اہم کردار ادا کیا ہو۔ایک ایسا کردار جو ابھی تک جاری ہے۔اس آیت کی مندرجہ بالا ممکنہ تو ضیحات سے رہنمائی لیتے ہوئے میں نے مچھر کی جسمانی ساخت اور عالم حیوانات میں اس کے کردار کا گہرا مطالعہ کیا۔یہ کام آغاز میں ہی کٹھن دکھائی دیتا تھا لیکن جوں جوں آگے بڑھتا گیا مزید پیچیدہ اور مشکل تر ہوتا چلا گیا۔مچھر پر دستیاب لڑ پچر اس کے عضویاتی ارتقا کی بابت خاموش ہے۔اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے میں نے مچھر پر تحقیق میں خصوصی دلچسپی لی کیونکہ مچھر کے علاوہ دیگر بہت سے جانوروں پر کی گئی تحقیق اور اس سے اخذ کئے گئے نتائج سے موجودہ لٹریچر بھرا پڑا ہے۔اس میں ان جانوروں کے عضویاتی ارتقا کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس ضمن میں ہم نے بہت حد تک اس مواد سے استفادہ کیا ہے جس سے قرآن کریم کے اس دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے کہ مچھر کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔امریکہ اور کینیڈا کے قابل اور اہل احمدی سکالرز کی ایک ٹیم پہلے سے ہی مچھر کی تخلیق کے ارتقا پر تحقیق کر رہی ہے۔لیکن چونکہ اس کام کیلئے بہت وقت درکار ہے اور اس کتاب کی اشاعت اتنی دیر تک روکی نہیں جاسکتی اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مچھر سے متعلق جو مواد بھی موجود ہے، اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اس کتاب کو مکمل کر لیا جائے۔بظاہر معمولی اور بے حیثیت دکھائی دینے والا مچھر شاید بنی نوع انسان اور دیگر انوع حیات