الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 396

386 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح اور اس فن کو سیکھنے اور اس سے پھندا تیار کرنے والی مکڑی کی کہانی ایک فرحت بخش اختتام کو پہنچتی ہے۔مکڑی اپنے اس ریشے دار قلعہ میں اس طرح مورچہ بند ہوتی ہے کہ نہایت خونخوار بھڑوں کو بھی اس پر حملہ کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن اچانک ایک بے چین کر دینے والا سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر اس لمبے چوڑے کھیل کا مقصد کیا تھا اور اندھے ارتقا نے بغیر کسی شعوری غرض وغایت کے یہ سفر کیوں اختیار کیا؟ آجا کر اس کا ایک ہی مقصد ذہن میں آتا ہے کہ مکڑی کو اس قدر خوراک مہیا کی جائے جو اس کی بقا کیلئے از بس ضروری تھی۔نا از بیچاری مکڑی کو قدرت کی طرف سے چند ٹیڑھی میڑھی اور بھدی ٹانگیں ہی عطا ہوئی تھیں۔پھندا نما جالا بننے میں مہارت حاصل کرنے سے پہلے لاکھوں سال تک نسلاً بعد نسل زندہ رہنے کیلئے مکڑی کو قوت لایموت کی ضرورت تو یقیناً در پیش رہی ہوگی۔لکھیاں بیوقوف تو ہو سکتی ہیں لیکن اتنی بھی نہیں کہ بغیر کسی حال کے سیدھی مکڑی کے منہ میں چلی جاتیں بہر حال مکھیوں کی اس خوراک کے سہارے یا اس کے بغیر ہی مکڑیاں عرصہ دراز تک زندہ رہیں۔اس سارے عرصہ کے دوران ریشہ پیدا کرنے اور جالا بننے کی ضرورت کب پیش آئی اور اس عبوری عرصہ میں ان سے متعلق اور لازم وملزوم ارتقائی تقاضے کہاں تھے؟ اس علم سے نابلد شخص کیلئے اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیلی کے دوران کتنے بڑے بڑے چیلنج در پیش ہوا کرتے ہیں۔آدمی یہ دیکھ کر دم بخودرہ جاتا ہے کہ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ جانے مکڑیوں کی کتنی ہی نسلیں بے مقصد ++ ماری گئی ہوں گی۔قبل ازیں ہم نے اس امکان کا ذکر کیا تھا کہ ممکن ہے بہت سے اچانک ہونے والے جینیاتی تغیرات نے خوراک کی خاطر مکڑی کو جالا بنے کا فن اچا نک سکھا دیا ہو۔مقصد یہ تھا کہ ایسا تصور ہی بنیادی طور پر کتنا لغو اور بے معنی ہے۔جینیاتی تغیرات مکمل، مربوط اور بامقصد انداز میں بیک وقت وقوع پذیر نہیں ہوا کرتے۔کسی بھی جاندار کی انواع کے طرز حیات میں اس قسم کی