الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 395

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 385 ریشوں کی طرح سخت ہو جائے۔نیز بظاہر نفیس اور نازک نظر آنے والے ان ریشوں کو تناؤ کی اس قدر طاقت عطا کی گئی جو اس کے ہم وزن فولاد کی تناؤ کی طاقت سے بھی زیادہ ہے۔اگر حادثاتی عوامل کے نظریہ کو درست مانا جائے تو اس صورت میں ان جھنجھلا دینے والے لمبے بے قابور یشوں کو ہر جگہ پھیلا ہونا چاہیئے تھا جو مکڑی کی ٹانگوں سے الجھ کر رہ جاتے اور نتیجہ سکڑی اُس بلخ کی طرح ہو جاتی جو اپنے شکاریوں کا تر نوالہ بننے کے لئے تیار بیٹھی ہو۔غالباً ماہرینِ ارتقا ہی اس کا بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ عمل کتنا عرصہ جاری رہا۔لیکن ایک عام آدمی کی حیثیت سے تو ہم اتنا اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ دس میں لاکھ سال بعد ذہنی طور پر زیادہ ترقی یافتہ مکڑی دھوپ سینکتے ہوئے اپنی حالت زار پر ماتم کرتی رہی ہوگی۔اس نادر لمحہ پر بالآخر جینیاتی تغیرات کا اجتماع دفعہ اس کی امداد کو آن پہنچا جس نے اس کے ننھے منے دماغ کے ایک حصہ کو ایسی مہارت بخشی جس سے اس کا نقصان فائدہ میں بدل گیا۔اچانک اسی نایاب لمحہ کے ساتھ ہی مکڑیوں کی زندگی میں ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہوا جس کی کوئی نظیر تمام عالم حیوانات میں نہیں ملتی۔پھر مکڑی فی الفور پھندوں کی طرح کے جالے بننے کے فن کو سیکھنے کی طرف متوجہ ہوئی۔اس امر کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ مکڑی کو اس مشق میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے کتنا عرصہ لگا۔مزعومہ ارتقا کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ تعجب کا باعث نہیں ہونا چاہئے کہ اس فن میں مہارت حاصل کرنے کیلئے مکڑی کو مزید نہیں لاکھ سال لگے ہوں گے۔مختلف قسم کے جالوں کی ساخت نہ صرف بے حد پیچیدہ اور نہایت عمدہ ہوتی ہے بلکہ انہیں ایک خاص مقصد کی خاطر ایک معین اندازہ اور ڈیزائین کے مطابق بنایا جاتا ہے۔مکڑی اپنے ہلکے پھلکے قدموں کے ساتھ کسی ماہر رقاصہ کی طرح ان جالوں پر پھرتی کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔یہ جانے اس کی نقل و حرکت میں کبھی حائل نہیں ہوتے۔اور تنے ہوئے رسے پر کرتب دکھانے والا بڑے سے بڑا ماہر بھی مکڑیوں کے سامنے پانی بھرتا نظر آتا ہے۔یہ کبھی غلط قدم نہیں اٹھاتی ، نہ ہی اس کے قدم کبھی ڈگمگاتے ہیں۔اسے توازن قائم رکھنے کے لئے کسی ڈنڈے کے سہارے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور اس معاملہ میں وہ کبھی بھی تذبذب کا شکار نہیں ہوتی کہ اپنا ریشہ کہاں تانے تا کہ انتہائی محتاط طریقے سے اپنے تیار کردہ جالے کو مکمل کر سکے۔چنانچہ اس طرح سوت تیار کرنے اور ایسے عمدہ اور بہترین جالا بنے