الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 397
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 387 ڈرامائی تبدیلیاں لانے کیلئے ایسے لاکھوں امکانات درکار ہوتے ہیں جو جینیاتی تغیرات کو ایک با مقصد اور مربوط شکل دے سکیں۔گوشت خور نازک آبی پودوں کا معاملہ بھی کچھ کم حیران کن نہیں ہے۔ان میں سے سادہ ترین پودے بھی اپنی ساخت میں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انسانی کوششیں اس امر کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہیں کہ لاکھوں سالوں پر محیط ارتقا کے اندھے اتفاقات کا یہ سفراتی ترتیب سے اتنی صحیح سمت میں کیسے ممکن ہوا کہ انجام کار شکار کو پھانسنے والی ایسی جیتی جاگتی مشینیں معرض وجود میں ہم اپنی بحث کا آغاز مارش بچر (Marsh Pitcher) سے کرتے ہیں جو ماہرین کے نزد یک گوشت خور آبی پودوں میں سادہ ترین قسم سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے پتوں کی لمبائی تقریباً ایک فٹ ہوتی ہے اور یہ ایک دوسرے میں باہم پیوست ہو کر قیف کی شکل بناتے ہیں۔جب یہ قیف پانی کی سطح پر نمودار ہوتی ہے تو اس کی ساری لمبائی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔قیف کے اوپر والے حصہ پر سرخ حاشیے ہوتے ہیں جو رس پیدا کرنے والے بے شمار غدودوں سے بھرے ہوتے ہیں۔استوائی علاقوں میں جہاں یہ پودے اگتے ہیں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ان پودوں کے قیف پانی سے بھرے رہتے ہیں لیکن پھر بھی نہ تو یہ قیف پھلتے ہیں اور نہ ہی اپنے وزن کے بوجھ سے دب جاتے ہیں۔ایسا دو وجوہ کی بنا پر ہوتا ہے۔(الف) ایک دو انچ بالائی حصہ کو چھوڑ کر اس کے پتے سارے کے سارے آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔اوپر والا حصہ جو جڑا ہوا نہیں ہوتا اس کے ذریعہ اتنا رستہ مل جاتا ہے جس سے فالتو پانی کا اخراج ہو سکے۔(ب) اوپر والے کنارے کے بالکل نیچے چھوٹے چھوٹے سوراخوں کا ایک دائرہ بنا ہوتا ہے جس کے باعث پانی کی ایک مخصوص سطح ہمیشہ قائم رہتی ہے۔پودے کے رنگ اور غدودوں سے نکلنے والے رس کی مسحور کن خوشبو کیٹروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔کیڑے مکوڑے جب اس کی تلاش میں اس کے گردا چھلتے پھرتے ہیں تو پھسل کر قیف کے اندر جا گرتے ہیں جو نیچے کی جانب جھکے ہوئے چکنے بالوں سے بھری ہوتی ہے جس کے باعث کیڑے مکوڑے دوبارہ اوپر نہیں چڑھ سکتے۔یہ نیچے پھسلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ قیف کے