الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 364
358 قدرت میں سمت پزیری یا کائریلیتی تلاش کرتے رہیں گے۔یہ ایک بہت بڑا مخمصہ ہے۔کسی بھی عنصر یا مرکب کے مالیکیولز خواہ دائیں طرف گھوم رہے ہوں یا بائیں طرف، بعینہ ایک جیسی کیمیائی اور طبعی صفات رکھتے ہیں؟ کس کے حکم سے وہ ایک معین سمت میں حرکت کر رہے ہیں۔یہ دماغ کو چکرا دینے والا سوال ہے لیکن جب حیات کی اس غیر معمولی صلاحیت کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس طرح یہ معلوم کر لیتی ہے کہ کون سے مالیکیولز کس سمت میں گھوم رہے ہیں تو یہ سوال عجیب اور اہم دکھائی دینے لگتا ہے۔حواس خمسہ مالیکیولز کی گردش کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔متحرک مالیکیولز مادہ پر کوئی ایسا نقش نہیں چھوڑتے جسے انسانی حواس شناخت کر سکیں۔لیکن پھپھوندی تو سوائے موہوم سے احساس کے اور کوئی معلوم حواس نہیں رکھتی۔کائنات میں سمت کے تعین کی کہانی یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔یہ تو ابھی آغاز ہے۔پاسچر کے زمانہ سے اب تک اس بارہ میں وسیع پیمانہ پر تحقیق ہو چکی ہے۔جس کے نتیجہ میں کئی الجھا دینے والی اور حیران کن مثالیں سامنے آئی ہیں جو اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ مختلف انواع حیات بخیر کسی غلطی کے سمت کا تعین کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔اب تک یہ انکشاف ہو چکا ہے کہ سمت کا تعین مادہ کی ہر سطح پر کارفرما ہے لیکن کیوں اور کیسے؟ یہ سوالات ابھی تک سمجھ سے بالا ہیں۔1957 ء تک یہی سمجھا جا رہا تھا کہ ابتدائی ذرات کے باہمی تعامل کی ذمہ دار چار بنیادی قوتیں parity Conserving یعنی مساوات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی ابتدائی سطح پر بھی تمام ذرات میں مخصوص سمتوں کا توازن پایا جاتا ہے۔تاہم 1957ء میں کولمبیا یونیورسٹی کی چین شونگ دو Chein Shuing) Wi) اور اس کے ساتھیوں نے یہ دریافت کیا کہ تابکار نیوکلیس میں سے خارج ہونے والے بیٹا (Beta) ذرات مخصوص سمتوں کی اس ترتیب کو ظاہر نہیں کرتے۔بلکہ بائیں طرف گردش کرنے والے الیکڑ انز دائیں طرف گھومنے والے الیکٹرانز سے بہت زیادہ ہیں۔مزید برآں اس امر کا بھی انکشاف ہوا کہ ایٹم کے سب سے چھوٹے ذرات یعنی نیوٹرینوز (Neutrinos) اور اینٹی نیوٹرینوز (Anti-neutrinos) جن پر کوئی چارج نہیں ہوتا اور روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہیں ان میں بھی ایک خاص قسم کی گردش پائی جاتی ہے لیکن بائیں سمت میں گھومنے والے الیکڑ ان کے برعکس