الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 363

الهام ، عقل ، علم اور سچائی LOUIS PASTEUR 357 دریافت کیا اور یہ اس کی غیر معمولی ذہانت اور گہرے مشاہدے کو خراج تحسین ہے کہ طرطیری ترشہ (Tartaric Acid) کے ایک خاص نمک کے مرکب کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس نے دو ہو بہو لیکن بر عکس قلمیں دریافت کیں۔اس نے بڑی احتیاط سے ان دونوں کو علیحدہ کر کے پانی میں حل کیا اور روشنی کی ایک کرن اس محلول میں سے گزاری۔وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دونوں نمونوں میں لوئی پاسچر شده (Polarized) روشنی مختلف سمتوں میں گھومی۔ایک بائیں سے دائیں اور دوسری دائیں سے بائیں۔اس سے پتہ چلا کہ طرطیری ترشہ کے مالیکیولز میں سے بعض دائیں طرف گھوم رہے تھے اور بعض بائیں طرف۔اور انہیں ایک دوسرے پر منطبق نہیں کیا جاسکتا تھا۔اس طرح سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ عناصر میں سمت کے تعین کا مشاہدہ کیا۔1 1857ء میں پاسچر ہی نے اس میدان میں ایک اور انوکھا انکشاف کیا۔ایک دن اس نے بوتل میں موجود کیمیائی محلول میں پھپھوندی کو نشو و نما پاتے دیکھا۔اس خراب محلول کو پھینٹنے کی بجائے اس نے روشنی کی ایک شعاع اس میں سے گزاری تاکہ محلول میں موجود پھپھوندی پر کسی اثر کا مشاہدہ کر سکے۔وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ قبل ازیں درست حالت میں محلول میں روشنی پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا لیکن خراب محلول میں روشنی کی تقطیب (Polarize) ہونے لگی۔قبل ازیں روشنی کے پولرائز نہ ہونے کی ایک سادہ سی وجہ یہ تھی کہ اس محلول میں موجود مخالف سمتوں میں گھومنے والے مالیکیولز کی تعداد برابر تھی۔اس لئے روشنی کا اثر زائل ہو رہا تھا۔چنانچہ روشنی کے تقطیب ہونے کی وجہ صرف یہی سامنے آئی کہ پھپھوندی نے ایک طرف گھومنے والے مالیکیولز کو ختم کر دیا جس کے نتیجہ میں مخالف سمت میں گھومنے والے مالیکیولز ہی باقی رہ گئے۔یوں ایک عقدہ تو وا ہو گیا۔لیکن اس کے نتیجہ میں کئی ایک پیچیدہ مسائل نے جنم لیا کہ کس طرح ایک معمولی پھپھوندی مالیکیولز کی حرکت کا بالکل درست اندازہ کر سکتی ہے اور اس نے خاص طور پر ایک ہی سمت میں گھومنے والے مالیکیولز کو ہی کیوں ختم کیا ؟ ان سوالات نے اس وقت نہ صرف پاسچر کے ذہن کو الجھایا بلکہ آج تک سائنسدانوں کیلئے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ کب تک اس کا جواب