الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 339

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 333 امر ہے جو تین حقائق سے جان بوجھ کر آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ہستی باری تعالیٰ کے اقرار سے یہ نام نہاد تضادات خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم اعلان کرتا ہے: الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فَطُورٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرُ ( الملك 4:67-5) ترجمہ : وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔تو رحمان خدا کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔پس نظر دوڑا۔کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے۔نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا۔تیری طرف نظر نا کام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہوگی۔ڈکرسن اور ان جیسے دیگر سیکولر سائنسدانوں کی مشکل یہ ہے کہ انہوں نے سوچ رکھا ہے اور اس پر انہیں فخر ہے کہ کائنات کے نظام میں خدا تعالیٰ کا کوئی کردار نہیں ہے۔واقعہ یہی ہے کہ کائنات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔لیکن یہ تضاد اسی لمحہ شروع ہو جاتا ہے جس لمحہ خدا تعالیٰ کو اس کی اپنی کائنات کی تخلیق کے امر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔اس کے نتیجہ میں جو تکلیف دہ صورت حال پیدا ہوتی ہے اس کی مثال کا ڈکر سن کے پیش کردہ مذکورہ بالاصل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔دراصل یہ صورت حال ان کے لئے کامل شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔بطور یاد دہانی بتاتے چلیں کہ DNA کی طرف سے جاری ہونے والی معلومات اور ہدایات کو معین مقامات تک پہنچانے کے لئے RNA کے سالے پیغام رسانی کا کام دیتے ہیں جہاں ان ہدایات کی تعمیل کی جاتی ہے۔جب سائنسدان قدرت کے اس پیچیدہ عمل کے رخ پر سے پردہ اٹھاتے ہیں تو اس عمل کی پیچیدگی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور مشکل میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔پیغام رساں RNA مالیکیول کے ساتھ ایک مخصوص امینوایسڈ کو جوڑنے کیلئے ایک ایسے توانائی مہیا کرنے والے خامرہ کی ضرورت ہوتی ہے جو دوسری طرف موجود اینٹی کو ڈان (anticodon) کو شناخت کر سکے۔مگر دقت یہ ہے کہ توانائی مہیا کرنے والا یہ