الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 340

334 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار خامرہ اسی عمل کے دوران پیدا ہوتا ہے جسے اس نے آگے بڑھانا ہے۔یعنی پھر وہی انڈے اور مرغی والا مسئلہ مذکورہ بالا مطالعہ سے یہ احساس ہوتا ہے کہ RNA ،DNA کی ماں ہے۔اگر چہ RNA کی ہو بہو نقل بنانے کا کوڈ DNA کی جینز (genes) میں موجود ہے مگر سائنسدانوں کو یقین ہے کہ بعض حالات میں DNA ،RNA سے بھی پہلے موجود تھے۔اسے ایک اور مرغی اور انڈے والا معمہ کہہ لیں یا کوئی اور نام دے لیں یہ بات تو پھر بھی حل طلب ہی رہے گی کہ DNA ،RNA سے پہلے کیسے معرض وجود میں آگئی۔پس سائنسدان اس معمہ کو حل کرنے کیلئے جس راہ پر بھی قدم مارتے ہیں انہیں اسی برسوں پرانی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یوں لگتا ہے کہ اس تحقیق کی راہ میں پتھر کی دیوار حائل ہے۔تاہم ڈکرسن نے ان دونوں کے ارتقا کو متوازی قرار دے کر اس مشکل سے نکلنے کی کوشش کی ہے۔اگر واقعہ ایسا ہی ہوا ہے تو اس تناظر میں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ارتقا کے انہی متوازی خطوط پر چلتے ہوئے اربوں سال سے انڈوں سے انڈے اور مرغیوں سے مرغیاں جنم لیتی چلی آرہی ہیں۔اس صورت میں یہ ایک دوسرے پر انحصار کئے بغیر زندہ رہے۔چنانچہ ایک سہانی صبح مرغی کو انڈے دینے کا خیال آیا اور انڈوں نے مرغیاں پیدا کرنے کی ٹھان لی۔یوں یہ کہانی دونوں کے باہمی مفاد کے حوالہ سے اپنے منطقی اختتام کو پہنچی اور وہ ایک دوسرے کو جنم دیتے ہوئے اکٹھے ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ہم دل کی گہرائی سے ڈکرسن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور سائنسی مسائل کے حل کی تلاش میں ان کے متوازن اور غیر متعصبانہ رویہ کو سراہتے ہیں مگر پھر بھی ڈکرسن کی یہ تجویز حیران کن ضرور ہے۔شاید یہ ایک سائنسدان کا نپا تلا نتیجہ نہیں بلکہ شدید تکلیف میں مبتلا ڈکرسن کی روح کی پکار ہے جس کا واحد علاج ہستی باری تعالیٰ کا اقرار ہے۔ہم نے ابھی عظیم سائنسدانوں کے اس اقرار کا ذکر کیا ہے کہ وہ باوجود انتہائی کوشش کے زندگی کا معمہ حل نہیں کر سکے۔ان کی تحقیقات میں قاری کو کہیں بھی کلوروفل کی پیچیدگیوں کا ذکر نہیں ملتا، جسے انہوں نے محض سبز رنگ کا ایک مادہ قرار دے کر چھوڑ دیا ہے۔نہ ہی دیگر پیچیدہ نامیاتی