الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 338

332 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار اس بات کا ثبوت نہیں کہ ابتدائے آفرینش سے قبل آزاد ماحول میں بھی یہ سب کچھ اسی طرح ظہور میں آیا ہو۔J۔Szostak نے بھی اپنے طور پر اس سے ملتے جلتے کامیاب تجربات کئے مگر یہ تجربات بھی لیبارٹری میں ہی کئے گئے۔Santa Clara University کے Harold P۔Klein نے اپنے شکوک کا اظہار ان الفاظ میں کیا:۔اس کا تصور کرنا بھی تقریبا ناممکن ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا ؟ ہمیں صرف لفظ " تقریباً " پر اعتراض ہے۔انہیں واضح طور پر اقرار کرنا چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے بغیر ایسا ہونا قطعاً ناممکن ہے۔ڈ کرسن لحمیات اور نیوکلیک ایسڈ کے باہمی اشتراک کی وجہ معلوم کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے تسلیم کرتا ہے کہ ان میں سے کوئی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔دو متوازی نظام آپس میں ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہو جائیں کہ وہ ایک دوسرے کے معاون بن جائیں اور ایک نظام دوسرے کو جنم دینے والا ہو، وہ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ تو وہی مرغی اور انڈے کی پیدائش والا معمہ ہے کہ کون پہلے پیدا ہوا۔بایں ہمہ اس کا پیش کردہ حل نہایت ناقص ہے۔اس کے نزدیک انڈے اور مرغی کو علیحدہ علیحدہ ترقی کرنی چاہئے تھی اور ان کا ارتقا بھی ایک دوسرے کی مدد کے بغیر ہونا چاہئے تھا۔جو لوگ ڈکر سن کو اس لئے عظیم سمجھتے ہیں کہ اس کا زندگی کے آغاز کا معمہ حل کرنے کا ابتدائی کام نہایت عظیم الشان ہے وہ بھی یقیناً اس کے اس سادہ لوحی پر مبنی بیان پر دنگ رہ گئے ہوں گے۔ڈکرین کو صرف یہ رعایت دی جاسکتی ہے کہ شاید وہ اس طویل اور دشوار تحقیق کے نتیجہ میں بری طرح تھک گئے ہوں گے جو وہ خدا کے وجود کا اقرار کئے بغیر اس معمہ کے حل کیلئے کرتے رہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔کیونکہ سب کچھ اس قادر مطلق کے ہاتھ میں ہو تو پھر مظاہر قدرت میں کسی قسم کے paradox یا تناقض کا امکان نہیں رہتا۔سائنسدانوں کا ایک ایسی اعلی علیم وخبیر اور مقتدر بالا رادہ ہستی کو جو تخلیق کے پیچیدہ عمل کی خالق ہے تسلیم نہ کرنا ایک نا قابل فہم