الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 295

288 قرآن کریم اور غیر ارضی حیات بہت معمولی ہے۔مگر ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ خیال درست نہیں کائنات ارتقا پذیر ہے اور ہر طرف سے آنے والی شعاعوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب کائنات میں زندگی کا کوئی وجود نہیں تھا کیونکہ یہ بہت زیادہ گرم تھی۔چنانچہ کائنات میں ہماری حیثیت غیر معمولی ہے۔کسی نہ کسی کو تو پہلی تہذیب بننا تھا سو وہ ہم ہیں۔2 برٹش انٹرپلینیٹری سوسائٹی ( British Interplanetary Society) کے سابق نائب صدر ڈاکٹر ٹونی مارٹن بھی انہی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔اس تمام مخالفت کے باوجود ڈاکٹر رائے (Roy) کے سائنسی خواب کے کم از کم جزوی طور پر پورا ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔امریکہ کا ادارہ ناسا (NASA) غیر ارضی باشعور مخلوق کی وسیع پیمانے پر تلاش کیلئے پہلے ہی حکومت سے منظوری لے چکا ہے۔پروفیسر ساگاں (Sagan) جیسے بین الاقوامی شہرت کے حامل سائنسدان بھی اس خیال کے پر جوش حامی ہیں۔3 کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ جس حقیقت کو قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے بیان کیا تھا وہ عصر حاضر کے سائنسدانوں پر آج منکشف ہو رہی ہے۔قرآن کریم ایک قدم اور آگے جا کر پیشگوئی فرماتا ہے کہ ایک دن انسان اس مخلوق سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔اگر چہ اس پیشگوئی کے کامل ظہور کا وقت ابھی نہیں آیا مگر اس کے آثار افق پر نمودار ہونے لگے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی پیشگوئیوں کو سائنسی ترقی پر سبقت حاصل ہے۔ہر نیا دور کچھ ایسی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھتا ہے جن کی تصدیق ماضی میں ممکن نہیں تھی۔لہذا اچھی طرح واضح ہو جانا چاہئے کہ بنیادی طور پر قرآنی پیشنگوئیاں اپنی نوعیت کے اعتبار سے سائنسی اندازوں سے بالکل مختلف ہیں۔انسانی تصور کا فطرت کے معلوم حقائق سے بڑھ کر آئندہ رونما ہونے والے واقعات تک پہنچنے کی کوشش کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر مستقبل ان قیاس آرائیوں کی تصدیق شاذ ہی کرتا ہے۔نیز ایسے تمام قصے انہی باتوں تک محدود ہوتے ہیں جن کے ہونے کا امکان اس زمانہ کے علم سے ثابت ہو۔سائنسی افسانہ نگار مروجہ علم کی بنیاد پر مستقبل کے امکانات کے بارہ میں اندازے لگایا کرتے ہیں۔بسا اوقات حقیقت ان کے بے ہنگم اندازوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے اور مستقبل