الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 296
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 289 کی شکل وصورت ان کے تصورات کے مطابق نہیں ڈھلتی۔چنانچہ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ غیب کے متعلق انسانی تصور کی پہنچ بہت ہی محدود ہے۔کسی بھی دور میں انسانی تصورات کے محدود ہونے کے حوالہ سے لیونارڈو ڈا ونچی (Leonardo da vinc) جیسے ذہین شخص کی مثال بہت موزوں ہوگی۔اس نے انسان کے پرواز کرنے کی صلاحیت پر غور کیا مگر اپنے زمانہ کے محدود علم کی وجہ سے کا میاب نہ ہو سکا۔اس وقت تک سائنس اور ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی جس کی بنا پر انسانی ذہن آگ کی مدد سے اڑنے والی مشین کے ذریعہ پرواز کرنے کا تصور کر سکے۔چنانچہ ہوائی جہاز کی ابتدائی شکل کا کوئی تصور بھی لیونارڈو کی پہنچ سے باہر تھا۔لیکن آسمانی صحیفوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ان کے بیان کردہ علوم زمانی قیود سے آزاد ہوا کرتے ہیں اور ان کا درست ثابت ہونا کوئی اتفاقی امر نہیں ہوا کرتا۔جدید علوم کی کسی بھی دریافت سے کوئی قرآنی پیشگوئی کبھی بھی غلط ثابت نہیں ہوئی۔چنانچہ ہمیں امید واثق ہے کہ مستقبل سے تعلق رکھنے والی تمام پیشگوئیاں اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی۔زمین پر آباد زندگی اور اس سے باہر اپنے والی مخلوق کے باہمی رابطہ کی پیشگوئی کا تعلق بھی اس قسم کی پیشگوئیوں سے ہے جن کا پورا ہونا ابھی باقی ہے۔خدا کرے کہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں جب انسان خلا میں بسنے والی مخلوق سے کسی نہ کسی طرح رابطہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔حوالہ جات 1۔ROY, A۔E۔, CLARKE, D۔(1989) Astronomy: Structure of the Universe۔Adam Hilger Ltd۔, Bristol, p۔270 2۔TIPLER, F۔(November, 1991) Alien Life۔Nature: 354:334-335 3۔Mc KIE, R۔(September, 1985) Calling Outer Space: Is Anybody There? Readers Digest:31-35