الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 294
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 287 قرآن کریم میں درج یہ پیشگوئی اس دور میں کی گئی جب علم فلکیات کی سائنس نے ابھی جنم نہیں لیا تھا۔اس دور میں کائنات کی ہیئت کے متعلق محض تک بندیوں سے کام لیا جاتا تھا۔اور زمین کے علاوہ زندگی کی موجودگی کا خیال بھی بعید از قیاس تھا حتی کہ یہ دعاوی آج بھی صرف سائنسی ناولوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔کائنات میں کسی اور جگہ حیات کی موجودگی کے متعلق سائنسدان اب تک اپنے پرانے شکوک وشبہات میں مبتلا ہیں اور حیات کی موجودگی کی تائید میں کوئی معین شہادت نہ ملنے کی وجہ سے گومگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔گلاسگو یونیورسٹی کے پروفیسر آرچیبالد رائے (Archibald Roy) ان معروف سائنسدانوں میں سے ہیں جو اس خیال کے پر جوش حامی ہیں کہ دوسرے کروں پر آباد ذی عقل مخلوق کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔وہ رقمطراز ہیں: 1<< مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں میں غیر ارضی زندگی کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نہ صرف اس بات کا امکان ہے کہ ہم ان کا بھیجا ہوا سگنل وصول کر سکیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم کسی باشعور زندگی کے ساتھ رابطہ اور معلومات کا تبادلہ کرسکیں۔اس مسئلہ پر ہر شخص پروفیسر رائے (Roy) سے متفق نہیں۔ٹیولین (Tulane) یونیورسٹی، نیو اور لینز (New Orleans) کے پروفیسر ڈاکٹر فرینک ٹیلر (Frank Tipler) کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اس سلسلہ میں زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ان کی مایوسی کی بنیاد اعداد و شمار پر ہے جن کے مطابق ان کے نزدیک محض ارتقا کے اندھے عمل کے نتیجہ میں انسان جیسی ذہین مخلوق کی کہیں اور موجودگی کا امکان اتنا کم ہے کہ وہ اعداد و شمار کے کسی قانون کے دائرے میں نہیں آسکتا۔ابھی تک تو زمین پر زندگی کا ارتقا خود ایک حل طلب معمہ ہے۔اس عمل کے دہرائے جانے کیلئے اتنے اتفاقات کا جمع ہو جانا حساب کی رو سے ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ڈاکٹر ٹیلر لکھتے ہیں: زمین کے علاوہ کسی اور کرہ پر ذوی العقول موجود نہیں ہیں۔باوجود اس کے کہ شواہد اس امکان کے خلاف ہیں اکثر ماہرین فلکیات اس خیال سے محض ایک فلسفیانہ اصول کی بنا پر چھٹے ہوئے ہیں کہ کو پرٹیکس (Copernicus) کے نظریہ کے مطابق کائنات میں ہماری حیثیت