الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 293

286 قرآن کریم اور غیر ارضی حیات ہرا کائی سات (جو کہ ایک کامل عدد ہے ) گروہوں میں منقسم ہے اور ہر گروہ میں کم از کم ایک زمین موجود ہے جو اپنے اپنے کہکشانی نظام کے سہارے قائم ہے۔اس نظام کا عمومی ذکر کرتے ہوئے ایک اور آیت کریمہ میں زمین کے علاوہ زندگی کی موجودگی کے تصور کو یوں بیان کیا گیا ہے۔وَمِنْ أَيْتِهِ خَلْقُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِنْ دَابَّةٍ (الشورى 30:42) ترجمہ: اور اس کے نشانات میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور جو اس نے ان دونوں میں چلنے پھرنے والے جاندار پھیلا دیئے۔دابۃ سے مراد وہ تمام جاندار ہیں جو سطح زمین پر رینگتے یا حرکت کرتے ہیں۔اس لفظ کا اطلاق پرواز کرنے والے یا تیرنے والے جانداروں پر نہیں ہوتا اور روحانی زندگی سے تو اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔عربی میں یہ لفظ ارواح یا فرشتوں کے متعلق کبھی استعمال نہیں ہوتا۔مذکورہ بالا آیت کے دوسرے حصہ میں نہ صرف غیر زمینی مخلوق کے امکان کا ذکر ہے بلکہ معین طور پر ایسی مخلوق کے پائے جانے کا ذکر بھی ہے۔یہ دعوی جدید ترین دور کے سائنسدان بھی وثوق سے نہیں کر پائے۔مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ہماری حیرت کی انتہا نہیں رہتی جب ہم اس آیت کو آخر تک پڑھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا دیگر کرؤں پر موجود زندگی کو زمین پر موجود زندگی سے ملا دے گا: وَهُوَ عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرُةً (الشورى 30:42) ترجمہ: اور وہ انہیں اکٹھا کرنے پر خوب قادر ہے جب وہ چاہے گا۔اس آیت میں جمعھم کا لفظ زمین اور دوسرے مقامات پر موجود زندگی کو باہم ملا دینے کیلئے استعمال ہوا ہے۔یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان سے یہ رابطہ کب ہو گا اور نہ ہی یہ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ رابطہ زمین پر ہوگا یا کہیں اور ؟ مگر یہ ذکر قطعی طور پر موجود ہے کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا انہیں ملا دے گا۔یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جمع کے لفظ کا اطلاق بالواسطہ جسمانی رابطہ پر بھی ہوسکتا ہے اور بلا واسطہ رابطہ پر بھی۔صرف آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ کب اور کیسے ہوگا ؟ لیکن چودہ سو سال قبل کی گئی یہ پیشگوئی اپنی ذات میں ایک جیتا جاگتا اعجاز ہے۔