الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 288
الهام ، عقل ، علم اور سچائی پہلی تخلیق کا آغاز کیا تھا اُس کا اعادہ کریں گے۔یہ وعدہ ہم پر فرض ہے۔یقینا ہم یہ کر گزرنے والے ہیں۔281 اب ہم ذیل میں اپنے مذکورہ بالا موقف کی تائید میں بعض ممتاز سائنسدانوں کے حوالے پیش کرتے ہیں۔پال ڈیویز (Paul Davies) جو ایڈلیڈ (Adelaide) یونیورسٹی میں نیچرل فلاسفی کے پروفیسر ہیں اور ملٹن (Templeton) جیسا اعلیٰ اعزاز حاصل کر چکے ہیں یوں رقم طراز ہیں: انیسویں صدی کے وسط میں سائنسدانوں کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔اس وقت تک ماہرین طبیعیات کا مطالعہ ایسے قوانین تک محدود تھا جو حاضر وقت سے مطابقت رکھتے تھے۔اور جو وقت کے اعتبار سے ماضی اور مستقبل میں چنداں فرق کے روادار نہیں تھے۔پھر حرارت اور انتقال حرارت کی دریافت سے صورت حال ہمیشہ کیلئے تبدیل ہو گئی۔حرارت کی سائنس میں سب سے اہم اور مرکزی نقطہ دوسرا قانون حرارت ہے۔جس کے مطابق حرارت ٹھنڈک سے گرمی کی بجائے گرمی سے ٹھنڈک کی طرف سفر کرتی ہے۔اس قانون کو الٹایا نہیں جاسکتا۔یہ قانون کا ئنات میں وقت کی سمت معین کرنے والے ایک ایسے اشارے کا کام دتیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلیاں ایک ہی سمت میں ہورہی ہیں۔چنانچہ سائنسدانوں نے بہت جلد یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ کائنات مسلسل ایک ایسے مقام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں پہنچ کر درجہ حرارت برابر ہو جائے گا۔اور کائنات ایک ایسی حالت پر آکر ٹھہر جائے گی جہاں حرارت سرے سے مفقود ہو گی۔اس انتہائی حالت کو، جس میں مالیکیول بے ترتیب ہو جائیں گے، عطر اپی کہا جاتا ہے۔اس حقیقت سے کہ کائنات ابھی تک فنا نہیں ہوئی یعنی عطر اپی کی آخری حد نہیں آئی ، یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کائنات ازلی نہیں ہے۔1 اسی طرح وہ اپنی کتاب God and the New Physics میں لکھتے ہیں: ماہرین طبیعیات نے بے ترتیبی کا اندازہ لگانے کیلئے ایک حسابی پیمانہ متعارف کرایا ہے جسے عطر اپی کہتے ہیں بہت سے تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کسی نظام کی مجموعی عطر اپی کبھی بھی کم نہیں ہوتی۔2 1<<