الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 287
280 عنطراپی اور محدود کائنات پروٹان بن سکتا ہے یا نہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب سائنسدانوں کی آئندہ آنے والی نسلیں دے سکیں گی۔بہر حال گزشتہ نظریات کے برعکس اب یہ طے ہے کہ پروٹان ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔قرآن کریم اس کے متعلق چودہ سو سال پہلے ہی واضح فیصلہ دے چکا ہے۔ہر اس چیز کیلئے جو پیدا کی گئی ہے ایک مدت مقرر ہے اور ایک دن وہ لاز ما ختم ہو جائے گی صرف خدا تعالی ہی عدم سے وجود میں لاتا ہے اور جب چاہتا ہے معدوم کر دیتا ہے۔قرآن کریم کا ایک دلکش انداز یہ ہے کہ وہ ایسی ایسی اصطلاحیں اور محاورے استعمال کرتا ہے جو بہت بعد میں کہیں جا کر انسانوں نے اختیار کیں۔اس جدید دور میں ہر شخص اس سائنسی طریق سے واقف ہے جس کے مطابق اکثر اشیاء پر درج ہوتا ہے کہ یہ چیز کب تیار کی گئی اور کب تک قابل استعمال رہے گی۔مثلاً جب پل بنائے جاتے ہیں تو ان کے افتتاح سے بھی پہلے انجینئر ان کی عمر کی تعیین کر کے ان کے ستونوں پر اسے کندہ کر دیتے ہیں۔اسی طرح موٹر گاڑیوں، ریلوے انجنوں، ریل کی پٹڑیوں، سڑکوں اور متعلقہ سازو سامان کیلئے بھی یہی طریق اختیار کیا جاتا ہے در حقیقت انسان کے استعمال میں آنے والی ہر چیز کیلئے ایک عمر مقرر ہے۔جس کی تعیین سائنسی بنیادوں پر کی جاسکتی ہے۔آج کل تو ڈبوں اور بوتلوں میں بکنے والی خوردنی اشیا پر بھی لکھا ہوتا ہے کہ فلاں چیز فلاں تاریخ تک قابل استعمال ہے۔پس خالق کا ئنات کی اپنی مخلوق کے بارہ میں باریک تفاصیل سے آگا ہی کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔قرآن کریم کا اسلوب اور اصطلاحات بالکل جدید معلوم ہوتی ہیں۔مختصراً کائنات کے محدود ہونے کے متعلق یہ قرآنی اصول کہ، ہر چیز کو فنا ہے اور بالآخر وہ ختم ہو جائے گی، کبھی بھی باطل قرار نہیں دیا جا سکتا۔تخلیق کے عظیم الشان منصوبے کی کتاب میں ہر چیز کا آغاز اور انجام پہلے سے درج کیا جا چکا ہے۔يَوْمَ نَطْوِى السَّمَاءَ كَطَيّ السِّجِلِ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَأَنَا أَوَلَ خَلْقٍ نُعِيْدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ (الانبياء 21 : 105) ترجمہ: جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جیسے دفتر تحریروں کو لپیٹتے ہیں جس طرح ہم نے