الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 289
282 عنطراپی اور محدود کائنات و اگر اس کائنات کی ترتیب محدود ہے اور یہ اس طرح درہم برہم ہو رہی ہے کہ یہ بے ترتیبی واپس دوبارہ ترتیب میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی تو بالآخر ایک وقت ایسا آئے گا جب حرارت ہر جگہ یکساں ہو جائے گی۔چنانچہ اس سے دو گہرے نتائج اخذ ہوتے ہیں۔اول یہ کہ یہ کائنات بالآخر ایک دن اسی عطر اپی کے ہاتھوں فنا کے گھاٹ اتر جائے گی۔سائنسدان اس کو کائنات کی انزاع حرارت (Heat Death) کہتے ہیں۔دوم یہ کہ یہ کائنات ہمیشہ سے نہیں ہے ورنہ ماضی بعید میں، جس کی کوئی حد و نہایت نہیں۔وہ توازن(Equilibrium) کی حالت کو پہنچ چکی ہوتی۔نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہے۔3 سان فرانسسکو یونیورسٹی کے چیئر مین پروفیسر ایڈورڈکیسل (Edward Kessel) لکھتے ہیں: زندگی جاری و ساری ہے۔طبعی اور کیمیائی عوامل واقع ہو رہے ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ ہماری کائنات ازل سے موجود نہیں ہو سکتی ورنہ بہت پہلے ہی اس کی قابل استعمال توانائی ختم ہو چکی ہوتی۔اور اس کا سفر رک گیا ہوتا۔پس بالواسطہ سائنس یہ ثابت کرتی ہے کہ کائنات کا ایک نقطہ آغاز ہے اور یہ کہ خدا تعالیٰ ایک حقیقت ہے کیونکہ کوئی بھی چیز از خود پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کی تخلیق ایک علت العلل اور محرک اور خالق یعنی خدا تعالیٰ کے وجود کا تقاضا کرتی ہے۔4<< اس اقتباس سے واضح ہے کہ ہستی "باری تعالیٰ پر ایمان کیلئے بڑی ٹھوس سائنسی شہادت موجود ہے۔ہمارا یہ موقف ان سائنسی معلومات پر مبنی ہے جن کے رخ پر سے ان بظاہر غیر جانبدار سائنسدانوں نے پوری تحقیق کے بعد پردہ اٹھایا ہے۔اب یہ ان پر منحصر ہے کہ چاہیں تو اس واحد اور ناگزیر نتیجہ کو تسلیم کرنے سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیں جو یہ ہے کہ: اس کا ئنات کا لازماً ایک خالق ہونا چاہئے ورنہ ہم کیا کسی بھی چیز کے وجود کا کوئی جواز نہیں رہتا۔خواہ یہ وجو دلحہ بھر ہی کے لئے کیوں نہ ہو۔