الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 235

230 الهام اور عقل ترجمہ: اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔سیہ وہ عالمگیر الہی منصوبہ ہے جس کے ذریعہ نظریات اور دلائل کی سطح پر اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔کیا اس میں کوئی ایسی چیز ہے جو رتی بھر بھی عقل کے خلاف ہو۔موجودہ زمانہ کے انتہا پسند علماء مسلمان عوام کو ان کے جذبات بھڑ کانے کے بعد غیر مسلموں کے خلاف جس خونی جنگ کی ترغیب دیا کرتے ہیں اس کی کوئی مثال انبیاء اور ان کے ماننے والوں کی زندگی میں نہیں ملتی۔ان کا یہ رویہ اسلامی تعلیم سے اتنا ہی متناقض ہے جتنا مرض شفا سے اور زہر تریاق سے۔ان قرآنی آیات کی تعداد جن میں مسلمانوں کو دلیل عقل اور سائنسی تحقیق کی پر زور تلقین کی گئی ہے، ڈاکٹر محمد اعجاز الخطیب کے نزدیک سات سو پچاس ہے۔اس کے بالمقابل قرآن کریم میں ایک بھی ایسی آیت نہیں ملتی جس میں کسی قسم کی بھی اندھا دھند پیروی کی تعلیم دی گئی ہو۔ذیل میں قرآن کریم کی چند ایک آیات درج کی جاتی ہیں جن سے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ عقائد اور نظریات کے سلسلہ میں قرآن کریم عقل و خرد، استدلال اور ٹھوس شہادت پر کس قدر زور دیتا ہے۔أتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تلون الْكِتَبَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔( البقرة 45:2) ترجمہ : کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو جبکہ تم کتاب بھی پڑھتے ہو۔آخر تم عقل کیوں نہیں کرتے ؟ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا أَمَنَا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إلى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمُ لِيُعَاجُوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ( البقرة 77:2) ترجمہ: اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے