الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 234
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 229 غلط منطق اسے اس بات پر آمادہ کرے گی کہ چونکہ کسی کو کوئی غلط عقیدہ اپنانے کا حق نہیں ہے اس لئے ہر ایک کو اپنے عقیدہ کے مطابق دوسروں کا عقیدہ زبردستی بدلنے کا حق حاصل ہے۔عقیدہ کی آزادی کے حق کا یہ مطلب نہیں کہ انسان جوابدہی سے بالا قرار دے دیا جائے۔جوابدہی کے اس اصول کو سامنے رکھ کر ہی آزادی کے حق کو صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔اگر کوہ پیماؤں کی کسی جماعت کو یہ کہا جائے کہ وہ بیشک جس طرف بھی چاہیں جا سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ انتباہ بھی کر دیا جائے کہ بعض راستے ان کو یقینی موت کے منہ میں لے جائیں گے تو اس صورت میں وہ اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھیں گے۔اس کے باوجود اگر بعض سر پھرے اس انتباہ کی پرواہ نہ کریں اور اپنے مفاد کی طرف سے آنکھیں بند کر کے آزادی کے حق کا راگ الاپتے ہوئے جدھر چاہیں چل پڑیں تو ان کا یہ رویہ انہیں یقینی تباہی کی طرف لے جائے گا۔چنانچہ آزادی عقیدہ اور آزادی ضمیر کا یہی نظریہ قرآن کریم میں یوں بیان ہوا ہے: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرَّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقره 257:2) ترجمه: دین میں کوئی جبر نہیں۔یقیناً ہدایت گمراہی سے کھل کر نمایاں ہو چکی۔پس جو کوئی شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقیناً اس نے ایک ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں۔اور اللہ بہت سننے والا ( اور ) دائی علم رکھنے والا ہے۔کسی کے عقیدہ کو جبراً تبدیل کرنے کی واضح ممانعت کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کو بغیر کسی قسم کے جبر کے، دلیل کے ذریعہ اپنا عقیدہ تبدیل کرنے کی دعوت اور ترغیب بھی نہیں دی جاسکتی۔اسلام میں نہ صرف اس کی اجازت ہے بلکہ مومنوں پر فرض ہے کہ وہ دوسروں کو دلائل اور حکمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں۔چنانچہ فرمایا: أدع إلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُط ( النحل (126:16)