الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 233
228 الهام اور عقل ہے۔یہ وہ اہم بات ہے جس کی قرآن کریم متعدد مقامات پر اپنے قاری کو بار بار یاد دہانی کراتا ہے اور اس بات کی خاص طور پر تنبیہ کرتا ہے کہ کسی شخص کو اجازت نہیں کہ وہ ایمانیات اور عبادات کے حوالہ سے خود کو حکم قرار دے کر شریعت نافذ کرتا پھرے بلکہ بانی اسلام ﷺ کو بھی قرآن کریم میں اس کی تاکید کی گئی ہے: إنَّمَا انْتَ مُذَكِّرَ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرِ (الغاشيه 22:88-23) ترجمہ: تو محض ایک بار بار نصیحت کرنے والا ہے۔تو ان پر دارو نہ نہیں۔حتی کہ مشرکوں کے خود ساختہ معبودوں کو جو محض ان کے اپنے ذہن کی اختراع ہیں برا بھلا کہنے کی بھی ممانعت ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمُ فَيُنَبِّتُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام 109:6) ترجمہ: اور تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ وہ دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ کو گالیاں دیں گے۔اسی طرح ہم نے ہر قوم کو ان کے کام خوبصورت بنا کر دکھائے ہیں۔پھر ان کے رب کی طرف ان کو لوٹ کر جانا ہے۔تب وہ انہیں اس سے آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔اس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان کو آخری دم تک سچائی کی تلاش اور اسے شناخت کرنے اور اس پر ایمان لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔عقیدہ کی آزادی ایک الگ بات ہے لیکن ان عقائد کے نتائج سے فرار دوسری بات۔عقیدہ کی آزادی کا حق اور دیگر بنیادی حقوق ہرگز یہ اجازت نہیں دیتے کہ سچائی کو پامال کر دیا جائے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ آزادی ضمیر اور اس کے مطابق عمل کرنے کے حق کا تحفظ کیا جائے۔عقیدہ کی آزادی کا حق نہ ہو تو ہر کوئی سچائی کے نام پر دوسروں کے نظریات کو طاقت کے زور پر بدلنے اور اپنا ہم خیال بنانے کیلئے جبر کر سکتا ہے۔اس کی