الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 230
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 225 ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا ، بن مانگے دینے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اَنَا اللهُ أَعْلَمُ۔میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔یہ وہ کتاب ہے۔اس میں کوئی شک نہیں۔ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو۔اس سادہ مگر گہرے اعلان کا تقاضا ہے کہ اس کے بنیادی پیغام کو سمجھنے کیلئے خصوصی توجہ دی جائے۔الہی تعلیمات کا اصل مقصود گمراہوں کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اعلان سے کیا مراد ہے کہ یہ کتاب صرف ان لوگوں کی رہنمائی کر سکتی ہے جو پہلے ہی نیک ہوں؟ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ سچائی کے طالب کیلئے اس کا خود راستباز ہونا ضروری ہے ورنہ اس کی جستجو اور تحقیق رائیگاں جائے گی۔اس بیان کے مطابق سچائی کا حصول محقق کی صحت نیت پر ہے۔یہ گہری حکمت اس مختصر مگر سادہ بیان سے واضح ہے کہ ھدی للمتقین۔ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو )۔یہی اصول دنیوی امور کی تحقیق پر بھی صادق آتا ہے۔متعصب ذہن سے کی جانے والی تحقیق اکثر و بیشتر قابل اعتبار نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی کچی اور با معنی تحقیق کیلئے صاف اور صحتمند ذہن اولین شرط ہے۔کوئی بھی جانبدارانہ ذہن کبھی غیر جانبدارانہ نتائج اخذ نہیں کر سکتا۔جس طرح بھینگا کبھی سیدھا نہیں دیکھ سکتا اسی طرح کوئی ہدایت بھی از خود ہر کسی کو صداقت تک نہیں پہنچا سکتی۔اس سے فقط غیر متعصب، راستباز ، صحت مند اور دیانتدار ذہن ہی استفادہ کر سکتا ہے۔اس مقام پر ایک مسئلہ کے حل کے بعد ایک اور حل طلب مسئلہ سامنے آتا ہے۔امید تو یہی کی جاتی ہے کہ مذہبی تنازعات میں فریقین سچائی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔مگر موجودہ زمانہ میں حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔بالعموم توقع تو یہی کی جاتی ہے کہ دنیوی معاملات کی نسبت مذہبی معاملات میں سچ کا عصر غالب ہو گا مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مذاہب کا معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔آغاز میں کسی بھی مذہب کے ماننے والے اوروں کی نسبت مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، زیادہ خلوص نیت سے سچائی پر کار بند ہوتے ہیں۔بانیان مذاہب کی زندگی میں ان پر ایمان لانے والوں کی عقل و حکمت اور راستبازی کا گراف انتہائی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔۔