الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 231

226 الهام اور عقل مندرجہ بالا قرآنی آیات ایک ایسے خدا کا تصور پیش کرتی ہیں جو ہر چیز کے بارہ میں انتہائی صحت وصفائی کے ساتھ پورا علم رکھتا ہے۔لہذا ایسی ہستی کی طرف سے عطا کیا جانے والا علم یقیناً انتہائی کامل اور قابل اعتماد ہو گا۔لیکن اس علم کو حاصل کرنے والا اگر باطنی سچائی کی صفت سے محروم ہے تو ایسے علم سے استفادہ نہیں کر سکتا۔اگر ہم ملحدین کی سہولت کیلئے عقل کو خدا کا مقام دے دیں تو صورت حال کچھ یوں بنتی ہے:۔مجرد عقل کسی کو سچائی کی طرف نہیں لے جاسکتی سوائے ان لوگوں کے جن کے اندر تقویٰ یا باطنی سچائی موجود ہو۔قابل اعتماد علم کے حصول کے لئے خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی، سب سے ضروری شرط یہی ہے۔علم کے سرچشمہ اور اس سے فیض پانے والے دونوں کے لئے سچا ہونا ضروری ہے۔یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن یہ آخری منزل نہیں ہے بلکہ یہاں سے تو اس سفر کا مشکل مرحلہ شروع ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کسی اور کی باطنی سچائی کے بارہ میں فیصلہ کون کرے گا؟ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے باطن کی سچائی کے متعلق دعویٰ کرے۔سوال یہ ہے کہ قرآن کریم اس مسئلہ کو کس طرح حل کرتا ہے؟ محض یہ کہنے سے کہ ”خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے انسانی سوچ کی سطح پر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم اس مسئلہ کا یہ حل تجویز نہیں کرتا۔قرآن کریم کے مطابق ہر انسان کی اندرونی حالت کا صحیح اندازہ اس کے روز مرہ کے نظر آنے والے کردار اور رویہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔اگر وہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں سچ کا عادی ہے تو اسے راستباز کہنا بجا ہو گا۔انبیاء کی صداقت پر کھنے کا بھی یہی پیمانہ ہے۔اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ جھوٹ کا عادی کبھی کبھار اپنی گفتگو یا رویہ سے سچائی کا اظہار بھی کر دے۔لیکن ایسے شخص کیلئے ممکن ہی نہیں کہ وہ ہمیشہ سچ بولے۔اس لئے انبیاء کرام کی یہ دلیل عین عقل کے مطابق ہے کہ دعویٰ نبوت سے پہلے جو معاشرہ ادنی سا جھوٹ بھی ان کی طرف منسوب نہیں کر سکتا تھا اب کیسے الزام لگا سکتا ہے کہ وہ اچانک خدا تعالیٰ کے متعلق جھوٹ گھڑ لیں اور اسے الہام قرار دے دیں۔اس کسوٹی پر انبیاء کی راستبازی کو بخوبی پر کھا جاسکتا ہے کیونکہ وہ زندگی بھر اپنے عمل سے ثبوت مہیا کرتے رہتے ہیں۔مگر یہ معیار سوائے انبیاء کرام کے دیگر انسانوں پر اطلاق نہیں پاتا کیونکہ ہر انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور نقطہ نگاہ میں بھی فرق ہوتا ہے۔نیز کسی معاملہ کو