الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 229

224 الهام اور عقل اور دینی اور دنیوی صداقت میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔صداقت تو اسلام کی جان ہے اور درحقیقت اسلام صداقت کا ہی دوسرا نام ہے۔سچائی کو اپنے ابلاغ کیلئے کسی جبر کی ضرورت نہیں۔اگر ضرورت ہے تو صرف عقل کی۔چنانچہ اسلام فطرت انسانی ، تاریخ اور معقولیت کے سیاق و سباق میں عقل سے ہی رجوع کرتا ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کی سچائی کو پرکھے۔وہ نہ صرف دینی بلکہ دنیوی امور میں بھی تحقیق کیلئے عقل اور منطق کو بنیاد بناتا ہے۔حصول علم کے لئے قرآن کریم میں مذکور تاکید سے متاثر ہو کر مشہور نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام صاحب نے اس بات کا بغور مطالعہ کیا کہ کس طرح قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس روشن خیالی سے استفادہ کیا۔وہ اس موضوع پر اپنے ایک مقالہ میں لکھتے ہیں: مشق یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد اعجاز الخطیب کے مطابق سائنس کی اہمیت ثابت کرنے کیلئے اور کس چیز کی ضرورت ہے جبکہ قرآن کریم کی 250 آیات قانون کے بارہ میں ہیں اور 750 آیات میں جو کہ قرآن کریم کا قریباً آٹھواں حصہ بنتا ہے مومنین کو اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ وہ قدرت کا مطالعہ کرنے کیلئے عقل کا بھر پور استعمال کریں اور سائنسی تحقیق کو اپنی اجتماعی زندگی کا ایک اہم جزو بنا ئیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔146 *** لیکن قرآن کریم اس کے علاوہ ایک انتباہ بھی کرتا ہے کہ صحیح نتائج اخذ کرنے کیلئے صرف تحقیق ہی کافی نہیں ہوا کرتی بلکہ انسان کی راستبازی شرط اول ہے۔یہ نہایت اہم بنیادی اصول سورۃ البقرہ کے آغاز میں مذکور ہے۔اگر چہ سورۃ البقرہ سورۃ الفاتحہ کے بعد آتی ہے جو قرآن کریم کا خلاصہ ہے، مگر عملاً اسے قرآن کریم کی تعارفی سورۃ کے طور پر لینا چاہئے۔کیونکہ اسی سے قرآن کریم کا تفصیلی متن شروع ہوتا ہے۔اس سورۃ کا آغاز کچھ اس طرح ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِن المة ذلِكَ الْكِتَبُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (3-1:2011) افسوس کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب اس کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی وفات پاگئے۔(مصنف)