الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 228
الہام اور عقل اس کتاب کے ایک اور باب میں مختصر اذکر ہو چکا ہے کہ مسلمان مفکرین کی ذہنی کاوش انسانی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں کس طرح عہد بعہد ترقی کی منازل سے گزری۔اگر چہ اس زمانہ میں ان کی تحقیق زیادہ تر قرآنی تعلیمات اور احادیث سے متاثر تھی لیکن اسے گلیڈا اسلامی قرار نہیں دیا سکتا۔تا ہم ہر جہت میں علمی ترقی نہایت تیز رفتاری سے ہوئی۔کئی نئے سائنسی اور فلسفیانہ نظریات کے سلسلہ میں ماضی کے سیکولر علمی اور سائنسی نظریات سے بھی استفادہ کیا گیا۔علاوہ ازیں نامور مسلم مفکرین نے کئی نئے دینی اور دنیوی علوم کی بنیاد ڈالی۔اس طرح مذہب اور عقل دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے۔چنانچہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں علم کے حصول پر جو زوردیا گیا ہے اس سے انہوں نے خوب کھل کر اکتساب فیض کیا۔عقل کے کردار پر اس شدت سے زور دیا گیا کہ ایمان اور عقل دونوں ہم معنی ہو گئے۔قرآن کریم کا یہ اعلان کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کیلئے نبی ہیں اور آپ عالیہ کا پیغام کل عالم کے لئے ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی بنیاد عقل پر ہے۔ایسا مذہب جس کی بنیاد عقل پر نہ ہو انسانی ضمیر کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔وَمَا اَرْسَلَك إِلَّا كَافَة لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ( سبا 29:34) ترجمہ: اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کیلئے بشیر اور نذیر بنا کر مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔قرآن کریم اپنی تعلیم کے عالمی ہونے کے ثبوت میں جملہ معاشرتی یعنی اخلاقی، سماجی اور مذہبی مسائل کے حل کے لئے رنگ و نسل اور ملت کے فرق اور امتیاز کو تسلیم نہیں کرتا۔لہذا یہ ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات میں یہ صلاحیت موجود ہو کہ وہ تمام دنیا کے لئے قابل قبول اور فطرت انسانی کے مطابق ہوں۔اس دعویٰ کے ثبوت میں یہی ایک دلیل نہیں ہے۔چنانچہ صداقت تک پہنچنے کیلئے قرآن کریم معقل کی اہمیت کو واشگاف الفاظ میں تعلیم کرتا ہے ** 223