الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 216

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 211 حل کیلئے درکار تھیں شعور میں پہلے سے موجود تھیں اور تحت الشعور نے ان کو نا معلوم طریق پر اکٹھا کر دیا۔کیا انسان کے وجدانی تجربات کا یہی ماحصل ہے یا الہام کی ایسی اقسام بھی ہیں جو انسانی ذہن کی دسترس سے باہر ہیں؟ دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کا عقیدہ ہے کہ انبیاء اور دوسرے بہت سے پاک لوگوں کو بھی الہام ہوتا تھا جس کا منبع ایک خارجی وجود یعنی خدا ہے۔لیکن دوسرے لوگ اس عقیدہ کو غلط فہمی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک چونکہ اول الذکر اپنے اندرونی تجربات کو واقعہ کسی خارجی وجود کی طرف سے موصول شدہ پیغام قرار دیتے ہیں اس لئے وہ ان پر یہ الزام نہیں لگاتے کہ وہ دیدہ دانستہ دھوکہ دہی سے کام لے رہے ہیں۔اس خیال کو درست تسلیم کرنے کی صورت میں یہ بھی مانا پڑے گا کہ خدا کی طرف منسوب ہونے والے تمام مذاہب کمزور بنیادوں پر قائم ہیں۔لیکن اس قسم کے دعاوی کو صرف اسی صورت میں سچا ثابت کیا جا سکتا ہے جب ان کی تائید میں کافی خارجی شواہد موجود ہوں۔چونکہ ایسے ہر مدعی کی صداقت کا پرکھنا بہت مشکل اور محنت طلب کام ہے اس لئے ہم اسے قرآن کریم کے پیش کردہ معیار پر پرکھنے کی کوشش کریں گے۔بیشتر بڑے بڑے مذاہب کی بنیاد اس عقیدہ پر قائم ہے کہ اس کائنات کی خالق ایک اعلیٰ ہستی ہے جس نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے تنہا اور بے تعلق نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کے معاملات میں اس کا نگران ہے۔اور جب بھی بنی نوع انسان کو رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے ذریعہ جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرما دیتا ہے۔وہ اپنے وجود کا خود پتہ دے کر بنی نوع انسان کو اپنی مشیت سے آگاہ کرتا ہے تا کہ وہ اپنی زندگی کو اس کی ہدایات کے مطابق ڈھالیں۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر الہام کو وجدان سے بالا علم کا ایک ایسا ذریعہ قرار دینا پڑے گا جس کے مقابل پر عقلیت کو ثانوی حیثیت حاصل ہوگی۔انسانی ذہن کے نقطۂ نظر سے الہام ایک اندرونی نفسیاتی عمل ہے۔یہی وجہ ہے کہ الہام کو تحت الشعور کے دیگر ملتے جلتے تجربات کے ساتھ غلط ملط کر دیا جاتا ہے۔بالعموم ہر شخص کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر نفسیاتی دباؤ سے واسطہ پڑتا ہے۔نفس انسانی میں نت نئے تصورات باندھنے کا