الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 217
212 الهام کی حقیقت اندرونی نظام موجود ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات صاحب تجر بہ کو یہ تصورات حقیقت پر مبنی دکھائی دینے لگتے ہیں۔یہ تجربات اس وسیع دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کی درجہ بندی بالعموم خوابوں، زبانی پیغامات، سریلی آوازوں، ہیولوں اور تصورات کے طور پر کی جا سکتی ہے۔پراگندہ یا انتہائی ہیجان آمیز ذہنوں کیلئے ایسے تجربات خطرناک حد تک شدید ہو سکتے ہیں حتی کہ یہ کیفیت انہیں دیوانہ کرسکتی ہے۔تیز بخار بھی اس قسم کا ذہنی ہیجان پیدا کر سکتا ہے۔مزید برآں بالکل مختلف تجربات بھی مشاہدے میں آئے ہیں جو نہایت منتظم تسلی آمیز اور سکون بخش خوابوں اور مکاشفات پر مشتمل ہوتے ہیں اور ذہن کو کئی قسم کے بے نام خوف اور ڈر سے چھٹکارا دلا کر اطمینان بخشتے ہیں، ایسا خوف جس میں بعض اوقات لوگ بغیر کسی شعوری وجہ کے مبتلا ہو جاتے ہیں۔کچھ پیغامات واضح اور صاف طور پر سنائی دینے والی آوازوں کی صورت میں یا بعض اوقات انسان یا فرشتہ کی شکل میں یا غیر مرئی وجودوں کی آوازوں کے ذریعہ سے موصول ہوتے ہیں۔اگر ان کی وضاحت یوں کی جائے کہ یہ انسانی ذہن اور نفس کے پیدا کردہ خیالات ہیں تو تمام روحانی تجربات اپنے مقام سے گر جائیں گے اور ایک عام انسانی سوچ بن کر رہ جائیں گے۔اس صورت میں وحی اور مکاشفات کی کیا امکانی حیثیت ہوگی؟ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جس کا ادراک بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کا جواب اور حل۔دراصل حسب ضرورت یہ صلاحیت انسانی ذہن کو قدر تا عطا کی گئی ہے کہ وہ ایسے تاثرات کو قبول بھی کر سکے اور ان کی تخلیق بھی۔اللہ تعالیٰ بھی جب چاہتا ہے اس ذہنی نظام کی براہ راست رہنمائی فرماتا ہے۔اس اہم سوال کے حل کیلئے اس کی جزئیات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اس مشکل مضمون کو ذیلی عناوین کے تحت تقسیم کر کے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔تحت الشعور جس طرح وہم اور ہذیان کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے اسی طرح یہ منتظم اور وجدان با مقصد مکاشفات و پیغامات حقیق کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ممکن ہے دماغ کے اندرونی حصے لاشعوری طور پر کسی موضوع پر غور کر کے ایک ایسا قطعی جواب تیار کر لیں جو شعور کیلئے بالکل نیا ہو۔در حقیقت کسی بھی مسئلہ کا حل تلاش کرنے تک ذہن یہ کام کرتا رہتا ہے۔پھر اس