الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 195

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 191 اصطلاحات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔لیکن عمرانیات اور انسانی ارتقا کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ سب قبائل ایک بالا ہستی پر ایمان رکھتے ہیں۔بالفاظ دیگر اللہ، خدا، پر ما تھا اور برہما اسی ہستی کے دوسرے نام ہیں۔ایک ازلی ابدی خالق کا ئنات کا یہ مرکزی تصور تمام تو ہمات کی آمیزش سے پاک نظر آتا ہے۔اگر چہ ہر قبیلہ میں مختلف قسم کے تو ہمات پائے جاتے ہیں لیکن ایک خدا پر ایمان کے بارہ میں ان میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ماہرین عمرانیات کو آسٹریلیا میں کہیں بھی خدا کے تصور کے تدریجی ارتقا کے شواہد نہیں ملے۔البتہ مختلف قبائل کے مروجہ عقائد میں صرف انداز بیان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔مثلاً ومبایو (Wimbaio) قبیلے کا عقیدہ ہے کہ زمین کی تخلیق کے وقت خدا زمین کے قریب تھا لیکن اس کام کی تکمیل کے بعد وہ آسمان کی بلندیوں کی طرف واپس چلا گیا۔اسی طرح و و جو بالک (Wotjobaluk) قبیلے کا عقیدہ ہے کہ نجل (Bunjil) نامی ایک بالا ہستی پہلے زمین پر عظیم انسان کی شکل میں موجود تھی لیکن بالآخر آسمان کی طرف پرواز کر گئی۔ماہرین عمرانیات ان عقائد کا ذکر کرتے ہوئے قاری کو اکثر یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ مذکورہ بالا پانچ سو یا اس سے بھی زائد قبائل ایک خالق کے ازلی ابدی ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔رہا یہ سوال کہ کیا کبھی وہ ہستی انسانی شکل میں ظاہر ہوئی؟ تو یہ ایک ضمنی بات ہے اس کا اس بحث کے مرکزی نقطہ سے کوئی تعلق نہیں۔ان کے عقائد کی بنیاد اس ایمان پر تھی کہ زمین اور اس میں موجود تمام اشیاء اپنے خالق کی طرح ازلی ابدی نہیں ہیں۔بہت سے ماہرین بشریات (Anthropologists) کے نزدیک قدیم آسٹریلوی باشندوں میں خدا کے تصور کے آغاز اور مقصد کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔انہیں اس بارہ میں شک ہے کہ آیا ان قدیم باشندوں کا بیان کردہ دیوتا (High Gods) وہی برتر ہستی ہے جس کا High Gods' کی اصطلاح جمع پر دلالت نہیں کرتی جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کی زبان میں یہ اصطلاح ہمیشہ ایک واحد بالاتر ہستی کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ممکن ہے کہ یہ لوگ تعظیماً اس ہستی کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوں۔(مصنف)