الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 196

192 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا کا تصور تصور دیگر روایتی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ان ماہرین کو یقین ہی نہیں آتا کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں جیسی پس ماندہ قوم بھی اتنے ترقی یافتہ نظریات کی کیونکر حامل ہو سکتی ہے۔اس نقطہ نظر کی نا معقولیت بالکل واضح ہے۔چونکہ یہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں اس لئے ان کے نزدیک ایسا ہونا ناممکنات میں سے ہے۔یہی ان کے دلائل کی بنیاد ہے۔اس سے ان کا متعصبانہ رویہ بھی کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔اگر قدیم آسٹریلوی معاشرہ میں بھی اپنی تاریخ کے آغاز سے ہی ایک خدا پر ایمان پایا جاتا ہے تو ماہرین عمرانیات کو یہ ماننا پڑے گا کہ خدائے واحد سے متعلق نظریات قدیم تو ہماتی داستانوں سے ارتقا پذیر نہیں ہوئے۔لیکن ہمیں ان کی طرف سے یہی بچگانہ اور گھسا پٹا جواب ملتا ہے کہ چونکہ ہمارے نزدیک ایسا ممکن ہی نہیں اس لئے ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ای۔بی۔ٹائگر (E۔B۔Tylor) نے اپنی خفت مٹانے کیلئے آسٹریلیا سے ملنے والے شواہد کو رد کرنے کی کوشش کی ہے اور حقائق سے پہلو تہی کرتے ہوئے یہ عذر تراشا ہے۔اس نے جرنل آف انتھروپالوجیکل انسٹی ٹیوٹ (1891 - Journal of Anthropological Institute) میں اپنے ایک مضمون Limits of Savage Religion (وحشی مذہب کی حدود ) میں یہ انوکھا نظر یہ پیش کیا ہے کہ آسٹریلیا میں ایک برتر خدا کا تصور عیسائی مشنریوں کے اثرات سے پیدا ہوا تھا۔مصنف کے اس بے سروپا خیال کو تاریخی حقائق کلیہ رد کر دیتے ہیں۔ٹانکر (Tylor) کے دعویٰ کو مکمل طور پر غلط ثابت کرتے ہوئے ارتقائیات کے ایک اور ماہر اے ڈبلیو ہووٹ ( A۔W۔Howitt) نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ جنوب مشرقی آسٹریلیا میں ایک ازلی ابدی خدا پر ایمان بہر حال عیسائی مشنریوں بلکہ مغربی آباد کاروں کی آمد سے قبل بھی موجود تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ وہ یہ بھی معلوم نہیں کر سکا کہ عیسائی مشنریوں کے آسٹریلیا میں توحید کا بیج بونے کا انوکھا تصور تو ویسے ہی رد کے قابل ہے۔کیونکہ آسٹریلیا کے پورے براعظم میں یہ قدیم باشندے خدا کے جس تصور سے محبت کرتے ہیں اس میں تثلیث کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔اسی طرح مشاہدات کے وسیع دائرہ کے باوجود ہووٹ اپنی تحقیق کو اس کے منطقی نتیجہ تک