الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 194
190 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا کا تصور معلوم کرنا ہوتا ہے کہ لوگ خدا یا دیوتاؤں کی پرستش کرتے کیوں ہیں؟ حالانکہ بقول ان کے ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔چنانچہ ان کی تحقیقات کا واحد مقصد ایسے تو ہمات کی نشو ونما کا جائزہ لینا ہوتا ہے جو دیوتاؤں کی تخلیق پر منتج ہوتے ہیں۔اب ہم قاری کو آسٹریلیا کی مذہبی تاریخ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔یہ وہ براعظم ہے جس کی ثقافت، معاشرت اور مذہبی تاریخ کم از کم پچیس ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے۔بہت سے محققین کے نزدیک اس کا عرصہ چالیس ہزار سال بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اور بعض تاریخ دانوں کے نزدیک یہ عرصہ ایک لاکھ میں ہزار سال تک ممتد ہے۔اس عرصہ میں بغیر کسی وقفہ، ملاوٹ اور خلل کے مذہب کی نشو و نما مسلسل جاری رہی۔براعظم آسٹریلیا صرف اسی لئے منفرد نہیں کہ یہ باقی دنیا سے کٹا ہوا تھا بلکہ اس لئے بھی منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ اس میں سینکڑوں قبائل پر مشتمل ایسے معاشرتی جزیرے تھے جو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ تھے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہاں پانچ سو سے چھ سو تک ایسے قبائل تھے جن کے مذہبی اور معاشرتی ارتقا کی اپنی اپنی آزادانہ تاریخ تھی جو چھپیں سے چالیس ہزار سال پر محیط ہے۔اس دوران سوائے چند سرسری سرحدی رابطوں کے وہ ایک دوسرے سے بالکل الگ رہے۔یہ رابطے نہ صرف مختصر تھے بلکہ ایک دوسرے کے نظریات، عقائد، روایات اور توہمات کی منتقلی کے لحاظ سے بھی غیر مؤثر تھے۔صرف زبانوں کا اختلاف ہی اس راہ میں حائل نہیں تھا بلکہ یہ لوگ روایتاً دوسروں سے میل جول اور روابط کو سخت نا پسند کرتے تھے۔اور یوں ایک دوسرے کو معلومات بہم پہنچانے کے رستہ میں نا قابل عبور رکا وٹیں حائل ہوگئی تھیں۔اگر ماہرین عمرانیات کا نقطہ نظر جو ہستی باری تعالیٰ کے انکار سے شروع ہوتا ہے اپنے اندر کوئی وزن رکھتا تو مظاہر قدرت کی پرستش سے خدائے واحد پر ایمان میں تبدیل ہونے والا آفاقی رجحان تمام قدیم آسٹریلوی قبائل میں بھی نظر آتا۔لیکن وہاں حقائق کو اس کے برعکس دیکھ کر ماہرین عمرانیات جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔آسٹریلیا کے تمام قبائل بلا استثنا تمام کائنات کی تخلیق کرنے والی ایک بالا ہستی پر ایمان رکھتے ہیں تفصیلی مطالعہ سے کہیں کہیں ان کے عقائد میں معمولی فرق ضرور نظر آتا ہے اور کچھ