الہام، عقل، علم اور سچائی — Page xxii
xxii پیش لفظ عظمت کا باعث ان کا عہدہ نہیں تھا بلکہ یہ ان کی شخصیت تھی جس نے اس عہدہ کو عظمت عطا کی۔اُن کا یہ لیکچر عہد ساز تھا۔مقررہ وقت پر میں نے انگریزی میں چند تعارفی کلمات کہے جس کے بعد میرا خطاب جو کہ میں نے اردو میں لکھا ہوا تھا مکرم شیخ ناصر احمد صاحب نے جرمن زبان میں پیش کیا۔انہیں اس تحریر شدہ تقریر کو پڑھ کر سنانے میں قریباً سوا گھنٹہ لگا۔اس کے اختتام پر حاضرین کو سوالات کی دعوت دی گئی۔سوال و جواب کے دوران شیخ ناصر احمد صاحب نے ترجمانی کے فرائض سرانجام دیئے۔یہ ایک نہایت ہی خوشگوار تجربہ تھا۔مجلس اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی۔اس کے باوجود طلبا کی دلچسپی آخر وقت تک برقرار رہی۔لیکن چونکہ یونیورسٹی کے مقررہ اوقات کے مطابق ہال کو خالی کیا جانا تھا اس لئے دس بجگر پینتالیس منٹ پر مجلس برخاست ہوئی۔یوں اس کتاب کا آغاز ہوا۔اس کی حیثیت محض ایک بیج کی تھی کیونکہ میرے نوٹس میں سے بہت سے نکات اس مضمون میں شامل نہیں کئے جاسکے تھے۔مزید برآں وقت کی کمی کے باعث شیخ ناصر احمد صاحب کا تیار کردہ سارا ترجمہ بھی نہ پڑھا جاسکا۔بعد ازاں میں نے اردو ستودہ میں کئی اضافے کئے اور آنے والے سالوں میں اس کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں مگر ان میں کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکی اور آخر تر جمہ کا یہ سلسلہ ترک کر دیا گیا۔موضوع اس قدر متنوع تھا کہ کسی ایک عالم کے لئے تن تنہا ممکن نہ تھا کہ زیر بحث مضامین کا تسلی بخش ترجمہ کر سکے۔کچھ علما نے اپنی سی کوششیں ضرور کیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔آخر بے شمار مصروفیات کے باوجود یہ ضروری سمجھا گیا کہ مجھے خود ہی از سر نو اس کتاب کو لکھوانا چاہئے۔اس کام کے لئے باسط احمد صاحب نے ، جو رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے بورڈ آف ایڈیٹرز میں شامل ہیں، رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔انہوں نے میرے لکھوائے ہوئے مواد کے بہت سے حصے اپنے لیپ ٹاپ پر تیار کئے لیکن میری تسلی نہ ہوسکی۔چونکہ ہماری ملاقاتوں کا ا درمیانی وقفہ بہت طویل ہوتا تھا اس لئے مضمون میں ربط قائم کرنے کے لئے اسے ہر بار دہرانا پڑتا تھا۔مزید برآں ہر بار مضمون میں کئی نئے خیالات شامل کرنا پڑتے تھے اور کچھ ایسی تبدیلیاں بھی کرنا پڑیں جن کی وجہ سے کتاب کے دیگر ابواب کو بھی تبدیل کرنا پڑتا تھا۔باسط صاحب نے مسلسل دو