الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxiii of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page xxiii

الهام ، عقل ، علم اور سچائی xxiii سال تک بغیر کسی شکوہ کے، بے حد محنت کی یہاں تک کہ مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہونے لگی کہ وہ بیچارے خواہ مخواہ اس قدر مشقت اٹھا ر ہے ہیں۔بالآخر انہیں اس کام سے فارغ کرنا پڑا تا ہم ان کی گراں قدر خدمت سے کام کو آگے بڑھانے میں بے حد مدد ملی۔یقینا، ہر ترجمہ پہلے ترجمہ کی نسبت بہتر ہوتا تھا۔باسط صاحب کے بعد خواتین کی ایک ٹیم کو یہ کام دوبارہ شروع کرنے کے لئے منتخب کیا گیا۔رفتہ رفتہ کام میں بہتری تو آتی گئی مگر ایک مربوط اور رواں مضمون نہ بن سکا۔آخر اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ مسودہ کے اکثر حصہ کو میں خود دوبارہ تحریر کروں۔اس کٹھن کام پر پچھلے سال کا بیشتر حصہ صرف ہوا جس میں بعض دوسری ناگزیر مصروفیات بھی حائل ہوتی رہیں۔اب آخر میں کسی ایسے قابل شخص کی ضرورت تھی جو آغاز سے اختتام تک کام کا جائزہ لے اور اس میں موجود بظاہر نظر نہ آنے والی غلطیوں اور بعض باتوں کی تکرار کی نشاندہی کرے۔یہ محنت طلب مگر انتہائی اہم کام فرینہ قریشی صاحبہ نے انجام دیا۔اُن کے ہمراہ مختلف علمی وادبی کاموں کا تجربہ رکھنے والی ایک بے حد مفتی ٹیم بھی تھی۔فرینہ قریشی کی رہنمائی میں اس ٹیم نے مل کر کام کیا اور مسودہ میں موجود اُن تمام غلطیوں کی طرف توجہ دلائی جو میری نظر سے رہ گئی تھیں۔چنانچہ اس طرح میرے لئے بالآخر یہ ممکن ہوا کہ میں کتاب کے مسودہ میں چھوٹی چھوٹی الجھنوں اور پیچ وخم کو دور کر کے مسودہ کو آخری شکل دوں۔یہ ٹیم فریده غازی صاحبہ، منصوره حیدر صاحبہ، پروفیسر امتہ المجید چودھری صاحبہ، صالحه صفی صاحبه، منیر الدین صاحب شمس محمود احمد ملک صاحب ( کمپیوٹر ٹائپسٹ ) اور منیر احمد صاحب جاوید پر مشتمل تھی۔یہ سب نام ان انتہائی محنتی اور رضا کارانہ کام کرنے والے احباب کی طویل فہرست میں شامل ہیں جن کا میں تہ دل سے شکر گزار ہوں۔زیورک میں اس کام کا آغاز ہوا تھا جس کے دس سال بعد جو بظاہر ایک نہ ختم ہونے والا انتظار تھا یہ کتاب بالآخر اشاعت کے لئے تیار ہوئی۔اگر پروفیسر ڈاکنز (Dawkins)، جو برطانیہ کے ایک ممتاز ماہر حیوانات ہیں اور مشہور زمانہ کتاب The Blind Watchmaker' کے مصنف بھی ہیں، نہ ہوتے تو یہ کتاب بہت عرصہ قبل چھپ سکتی تھی۔اپنی اس غیر معمولی تصنیف میں انہوں نے