الہام، عقل، علم اور سچائی — Page xxi
پیش لفظ اس کام کا آغاز 1987ء میں مکرم مسعود احمد صاحب جہلمی ، سابق مربی انچارج سوئیٹزرلینڈ کی ایک تجویز سے ہوا جو انہوں نے زیورک یونیورسٹی میں علم الملل (Ethnology) کے پروفیسر ڈاکٹر کارل بینکنگ کو پیش کی۔انہوں نے پروفیسر صاحب سے درخواست کی کہ جماعت احمد یہ عالمگیر کے سر براہ کو اسلام کے متعلق لیکچر دینے کی دعوت دی جائے کیونکہ اس موضوع پر کبھی کسی مذہبی عالم نے یو نیورسٹی میں خطاب نہیں کیا۔پروفیسر صاحب نے پہلے تو اس تجویز کو قبول نہ کیا کیونکہ ان کے خیال میں یونیورسٹی کے طلبا مذہب میں بہت کم دلچسپی رکھتے تھے۔در حقیقت ان میں سے اکثر دہر یہ ہونے میں فخر محسوس کرتے تھے اور کسی بھی مذہب کے لئے ان کے دل میں کوئی خاص احترام نہ تھا۔تاہم چند دنوں کے بعد پروفیسر صاحب نے خود مسعود صاحب کو یہ تجویز دی کہ عنوان کچھ اس طرح بنایا جائے کہ عقلیت پسندی اس میں بنیادی موضوع ہو۔موازنہ کی خاطر وحی و الہام کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے تا کہ یہ بتایا جاسکے کہ حقیقی علم اور ابدی صداقتوں تک لے جانے میں دونوں کا الگ الگ کیا کردار ہے۔اُن کا خیال تھا کہ شاید اس قسم کے موضوع میں طلبا یک پی لیں چنانچہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ ان کا خیال درست تھا۔14 جون 1987 ء بروز جمعرات ، رات آٹھ بجکر پندرہ منٹ پر الہام علم اور ابدی صداقت کے موضوع پر مجوزہ لیکچر دیا گیا۔طلبا اس موضوع کوسن کر کھنچے چلے آئے اور Cue آڈیٹوریم کی تمام Oule نشستیں پر ہوگئیں یہاں تک کہ ایک دوسرے ہال میں ٹیلی ویژن سکرینز اور لاؤڈ سپیکر کے اضافی انتظامات کے ذریعہ پروگرام دکھانا پڑا۔اتفاق کی بات ہے کہ یہ وہی آڈیٹوریم تھا جہاں سر ونسٹن چرچل نے 9 ستمبر 1946 ء کو 'Let Europe Arise کے موضوع پر تاریخی خطاب کیا تھا۔درحقیقت اسی لیکچر سے یورپین کا من مارکیٹ کے موجودہ خدو خال ابھرے ہیں۔اس وقت وہ برطانیہ کے وزیر اعظم نہیں رہے تھے لیکن xxi