الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 139

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 139 معروضیت کی افادیت سے انکاری نہیں۔وہ محض اس کی اس صلاحیت سے انکار کرتا ہے کہ صرف وہی انسان کی حق کی طرف رہنمائی کرنے کیلئے کافی ہے۔مزید برآں وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ معروضی تجربه فطری سرچشمہ کی طرف ہماری رہنمائی میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔بایں ہمہ من شی عکس اس بات کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ فطرت یعنی کل کائنات اپنی ذات میں ابدی نہیں بلکہ ہمارے لئے آسمان نے تخلیق کی ہے جو باشعور ہستی ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے من شی عس نے کہا: وو Book of Poetry میں مذکور ہے کہ آسمان نے بنی نوع انسان کو پیدائش کے ساتھ ہی مختلف خواص عطا کئے اور مخصوص قوانین کے ساتھ ان کا تعلق جوڑا۔فطرت کے ان غیر متبدل قوانین پر سب کو عمل پیرا ہونا چاہئے اور اس قابل ستائش نیکی یا خیر کے ساتھ محبت کا تعلق پیدا کرنا چاہیئے۔4 من شی عس کے نزدیک آسمان سے مراد ایک ایسی باشعور ہستی ہے جسے ہم خدا تعالیٰ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔اس طرح لفظ ” آسمان کو خدا تعالیٰ کے فعال اور شعوری تخلیقی قوانین کی علامت سمجھا جاسکتا ہے۔چنانچہ وہ کہتا ہے۔Book of Poetry" میں اس کی وضاحت یوں درج ہے: ہمیشہ کوشش کرو کہ تمہیں خدائی احکام سے ہم آہنگ ہونے کی توفیق ملتی رہے۔نتیجہ تمہیں بہت خوشی حاصل ہوگی۔5 روایتی کنفیوشن ازم انسان کو ایک بے شعور کائنات کے ہاتھوں اتفاقی پیدائش کی بجائے خدا تعالیٰ کی مخلوق قرار دیتا ہے۔حضرت کنفیوشس کے نزدیک اپنی ذات کے عرفان کا مقصد خدا سے تعلق قائم کرنا ہے اور جنت سے متعلق انسانی تصور کا انتہائی مقصد بھی یہی ہے۔یہ عقیدہ کہ انسان کو خدائی صفات پر پیدا کیا گیا ہے، بڑی حد تک قرآنی تعلیم کے مطابق ہے۔چنانچہ فرمایا: فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم 30 : 31) ترجمہ۔یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا۔کنفیوشس اس بات کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ اول تو انسان کو خدا کے اس عکس کے اور اک کی پوری کوشش کرنی چاہئے جو اس کی ذات میں پنہاں ہے اور پھر ان صفات کو اپنی ذات