الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 140

140 کنفیوشن ازم میں جاری کرنا چاہئے۔اگر وہ یہ کوشش مخلصانہ طور پر نہیں کرتا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس کے کردار پر خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ چڑھ سکے۔کنفیوشن ازم کے مطابق انسانی اعمال اور کردار اس کی نیکی عظمت اور حسن معاشرت سے الگ آزادانہ حیثیت نہیں رکھتے۔دونوں باہم گہرے طور پر مربوط ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس سے پتہ چلتا ہے۔عظیم استاد کنفیوشس ) نے کہا۔جب انسان کا فی علم تو حاصل کرلے لیکن اس کی نیکی اس علم کی متحمل نہ ہو تو جو کچھ وہ حاصل کر چکا ہے اسے ضائع کر دے گا۔اسی طرح اگر اس کا علم تو وافر ہو اور وہ نیک بھی بہت ہو اور نیکی پر مضبوطی سے قائم بھی ہولیکن وہ وقار کے ساتھ حکومت کے معاملات طے نہ کر سکے تو لوگوں کے دلوں سے اس کا احترام اٹھ جائے گا۔اسی طرح اس کا علم بھی کافی ہو، وہ نیکی پر بھی مضبوطی سے قائم ہو اور امور حکومت کو بھی باوقار طریق سے بجالاتا ہو لیکن اگر عوام الناس کو قاعدے قانون سے ہٹ کر متحرک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ 6" کمال تام حاصل نہیں کر سکتا۔6 یہ امر بھی واضح ہے کہ کنفیوشس کا اس بات پر پختہ ایمان تھا کہ انسان پر خالق کا بہت گہرا اثر ہوا کرتا ہے اور یہ کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔یہ بات مندرجہ ذیل روایت سے واضح ہو جاتی ہے۔وانگ سن چیا (Wang-sun-Chia) نے عظیم استاد کنفیوشس سے دریافت کیا کہ 66 قول کا کیا مطلب ہے کہ جنوب مغربی کونے کی بجائے بہتر ہے کہ بھٹی کی تعظیم کی جائے۔“ استاد نے جواب دیا کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔وہ جو آسمان (خدا) کی ناراضگی مول لے لیتا ہے اس کا کوئی نہیں رہتا جس سے وہ مانگ سکے۔7 خدا کے تخلیقی قوانین کی خلاف ورزی سے مراد انسان کا اپنی فطرت کے خلاف عمل ہے۔انسانی فطرت کو خدا نے ایک ایسے آئینہ کے طور پر بنایا ہے جس میں اس کی اپنی ہی صفات منعکس ہوتی ہیں۔جب انسان خدا سے منہ موڑ لیتا ہے تو اس کے بعد کوئی بھی باقی نہیں رہتا جس کی طرف وہ رجوع کر سکے۔