الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 138
138 کنفیوشن ازم علم کا ارتقا بعد ازاں ایک عالم King Huang Ti کے ذریعہ ہوا جس نے I Ching سے استفادہ کیا تھا۔ماسٹرسن (Master Sun) کی کتاب Art of War جو I Ching کو بھی استعمال میں لاتی ہے فوجیوں میں بہت مقبول ہے۔فوجی لوگ ہر دور میں اسے اہمیت دیتے رہے ہیں اور چھ مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔چینی منطقیوں اور مختلف قدیم روایتی مکاتب فکر نے بھی اپنے نظریات کی بنیاد Book of Changes میں پیش کردہ قوانین پر ہی رکھی ہے۔Book of Changes کسی حد تک مغربی دنیا پر بھی اثر انداز ہوئی ہے جہاں اسے مستقبل کا حال بتانے کیلئے ایک طرح کے جوشی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔کنفیوشن ازم کے مطابق حق کی شناخت کیلئے با قاعدہ درسی تعلیم ضروری نہیں۔خدا خود حق ہے اس لئے وہ جس چیز کو بھی پیدا کرتا ہے اسے اس صفت سے نوازتا ہے جو اس کی اپنی پہچان کا مرکزی نقطہ ہے۔چنانچہ کنفیوشن ازم میں انسانی فطرت اور ابدی سچائی ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔من شی عس cius (29-372 ق م) ایک چینی فلسفی ہمفکر اور ماہر تعلیم تھا۔وہ ا۔وہ ایک مذہبی آدمی بھی تھا اور کنفیوشس کے پیروکاروں میں ایک نمایاں شخصیت کا حامل تھا۔اس نے چینی فلسفہ پر بھی بہت گہرا اثر چھوڑا یہاں تک کہ بعض اسے نبی خیال کرتے ہیں۔ابدی سچائی تک پہنچنے کے رستہ کی وضاحت کرتے ہوئے ایک موقع پر اس نے کہا: احسان، نیکی، حسن معاشرت اور علم انسان میں باہر سے داخل نہیں ہوتے۔لا زمانہ خصوصیات ہمارے اندر پہلے سے موجود ہیں اور اس سے اختلاف محض عدم فکر کی وجہ سے ہے۔چنانچہ کہا جاتا ہے : ” ڈھونڈو تو پالو گے۔غفلت سے کام لو گے تو کھو دو گے“۔3 یہاں من شی عس، جس خارجی ذریعہ کا انکار کر رہا ہے اس سے مراد الہام الہی نہیں ہے بلکہ رہا وہ ذکر اس بات کا کر رہا ہے کہ ہماری اخلاقی خوبیاں جو ہماری ہستی کا ایک لازمی عنصر ہیں، ہمارے اندر باہر سے نہیں آتیں۔اس کا خیال ہے کہ ہما راحتی تجربہ بذاتہ ہمیں کوئی نیا پیغام نہیں دیتا بلکہ انسان اپنے حسی تجربہ کے آئینہ میں اپنی فطرت کے خارجی نقوش کا مطالعہ کر سکتا ہے۔درحقیقت وہ