الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 137
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 137 کی تعلیمات کا سر چشمہ تھا۔آسمان اسی خدا کی ایک محبتی ہے اور بعض اوقات اسی خدا کو آسمان قرار دے دیا جاتا ہے۔کنفیوشن ازم میں حقیقی علم سے مراد خدا تعالیٰ کی صفات کا عرفان اور ان صفات کا اپنی ذات میں اجرا اور قیام ہے۔یہ امر انسان کو ابدی سچائی کے قریب تر کر دیتا ہے اور علم اس کے فائدہ کیلئے وسیلہ کا کام دیتا ہے۔کنفیوشن ازم اور تا وازم کی تاریخ کا آغاز گوشی Fu Hsi (3322 ق م) کے زمانہ سے ہوتا ہے جو ایک بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم عالم بھی تھا۔ایک مرتبہ اس نے رویا میں ایک گھوڑا نما جانور Yellow River سے نمودار ہوتے دیکھا جس کی پیٹھ پر ایک خاکہ بنا ہوا تھا۔چینی تاریخ میں کسی نبی کا رویا کے ذریعہ علم حاصل کرنے کا یہ منفرد واقعہ نہیں ہے۔Yu (2140 ق م) نامی نبی کا بھی الہام الہی سے مستفیض ہونے کا ذکر ملتا ہے۔چنانچہ خُوشی نے رویا ہی میں اس خاکہ کا مطالعہ کیا جو تین نر اور تین مادہ خطوط کے آٹھ سیٹ پر مشتمل تھا۔ان سہ پہلواشکال کے اوپر اور نیچے کے جوڑوں کی صورت میں ملاپ سے چھ کونوں والی چونسٹھ شکلیں وجود میں آئیں۔ہر شکل کی اہمیت اس کے نام سے ظاہر کی گئی اور اس کا تعلق نر اور مادہ خطوط کی ایک خاص ترتیب سے تھا۔کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے ایک دانشمند کنگ وان King Wan (1143 ق۔م) نے وضاحت کی۔اس کے بیٹے چن کنگ Che King (110 ق م) نے ان تشریحات میں اضافے کئے اور بعد میں کنفیوشس نے ضمیموں کی صورت میں اس کی مزید تشریح کی۔یوں فوشی کی رویا Book of Changes میں I Ching یا Yi King کے نام سے متعارف ہوئی۔آٹھ مثلثوں کے اس نظریہ کے قواعد چین میں ایسے علوم وفنون کی نشو ونما پر اثر انداز ہوئے جن کا تعلق انسانی زندگی کے جملہ شعبوں سے ہے۔کہا جاتا ہے کہ چین میں اس فلسفہ نے زراعت، صنعت، طب، معیشت، سیاست اور کئی دوسرے شعبہ ہائے علم کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک چینی دانشور Chuo Chih Hua اپنی کتاب 'Acupuncture & Science میں لکھتا ہے کہ آٹھ مثلثوں کے نظریہ کا چینی طریق علاج کے ساتھ وہی رشتہ ہے جو ریاضی کا یورپی سائنس کے ساتھ۔History of Medicine of China2 کے مطابق خُوشی نبی، جس کا آٹھ مثلثوں کا نظریہ الہام پرمبنی تھا، نے علم الادویہ اور آکو پنکچر بھی دریافت کیا تاہم بعض کے نزدیک اس