الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 136
136 کنفیوشن ازم ماخذ سے دور ہوتا چلا گیا اور توحید پر ایمان کی آڑ میں اس کے پیروکاروں میں بہت سے تو ہمات اور غلط رسم و رواج راہ پاگئے۔افسوس ! یہ ایک ایسا المیہ ہے جو بار بار رونما ہوتارہتا ہے۔جہاں تک آباد پرستی کا تعلق ہے اگر چہ اس مذہب کے پیروکار اپنے بزرگوں کو دیوتا یا اولیاء کا مقام تو نہیں دیتے تا ہم بہت سے لوگ ان سے حاجت براری کیلئے دعائیں ضرور مانگا کرتے ہیں۔لیکن جاپان میں اس قسم کی پرستش سے وہ مطلب نہیں لیا جاتا جو دیگر مقامات پر لیا جاتا ہے۔یہ مرنے والے کی یاد اور اس کا احترام اور اس سے وفاداری کا ایک قسم کا اظہار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی مردوں کی ارواح سے نہیں مانگا کرتا اور نہ ہی وہ ارواح کو با اختیار دیوتاؤں کا درجہ دیتا ہے۔قوانین قدرت میں کامل توازن اور ہم آہنگی اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ اس کا ئنات کو لازماً ایک واحد اور برتر ہستی نے تخلیق کیا ہے اور اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس کی تخلیق میں دو یا تین تخلیقی قوتیں کارفرما ہوں۔اس سے یہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی ایسی ہستی پر ایمان لانے کی گہری اور فطری خواہش لازماً خالق اور مخلوق کے درمیان ایک واسطہ قائم کرنے کی غرض سے رکھی گئی ہوگی۔اور اگر یہ واسطہ اور ربط موجود نہ ہو اور قائم نہ ہو سکے تو الہام الہی کی عدم موجودگی سے ایک ایسا خلا رہ جاتا ہے جسے اس بنیادی خواہش کے زیر اثر کسی نہ کسی طرح پُر کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ یہ خواہش اپنے لئے خود ہی کوئی خدا تراش لیتی ہے خواہ وہ ارواح ہوں یا مافوق الفطرت غیر مادی وجود، بھوت پریت ہوں یا دوسرے سماوی وجود۔چنانچہ تو ہم پرستی کوئی اتفاقی امر نہیں ہے۔تو ہم پرستوں کے ہاں پائے جانے والے دیوتاؤں کے خیالی پیکر بھوتوں کے ان ہیولوں کی مانند ہیں جو روشنی کی عدم موجودگی میں جنم لیا کرتے ہیں۔اس انحطاط پذیر رجحان کے نتیجہ میں مذہبی عقائد سے آہستہ آہستہ خدا کا تصور ہی غائب ہو جاتا ہے۔دراصل خدا تعالیٰ پر ایمان انسان کی اصلاح نفس اور نتیجہ ایک محاسبہ کا متقاضی ہے۔جب کہ ارواح ، بھوت پریت اور دیگر خیالی مخلوق کسی قسم کے مذہبی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنے کا تقاضا نہیں کرتے۔کنفیوشن ازم کی مسلمہ تحریرات کے گہرے مطالعہ سے یہ ثابت کرنا مشکل نہیں کہ بنیادی طور پر در اصل یہ کوئی محض انسانی فلسفہ نہیں تھا بلکہ کائنات کو چلانے والے زندہ جاوید خدا کا تصور ہی اس