الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 135

کنفیوشن ازم کنفیوشن ازم گہری حکمت و دانائی کا خزانہ ہے۔اس کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عقل، الہام اور علم انسان کی حق کی طرف رہنمائی کرتے وقت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔اگرچہ بہت سے چھینی خدا تعالی کی طرف سے آنے والے دنیا کے دیگر مذاہب کی طرح کنفیوشن ازم کو بھی ایک مذہب مانتے ہیں تا ہم ان میں سے بعض اسے محض ایک فلسفہ خیال کرتے ہیں۔مثلاً جاپان میں کنفیوشن ازم کی کوئی ایک حیثیت نہیں ہے۔تا وازم،منٹو ازم اور بدھ ازم کے پیرو کارکنفیوشن ازم پر بھی ایک ایسے فلسفہ کے طور پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کے اپنے مذاہب سے ہم آہنگ ہے۔یہ سب ازم آپس میں یوں خلط ملط نظر آتے ہیں جس کی مثال دنیا کے دیگر مذاہب میں نہیں ملتی۔جب ہم کنفیوشن ازم کا محض ایک فلسفہ کے طور پر ذکر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ہستی باری تعالیٰ کا سوال خاص طور پر ابھرتا ہے۔حضرت کنفیوشس (550-478 ق م) کے کچھ پیرو کار آج بھی خدا تعالیٰ کے وجود پر واضح ایمان رکھتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ارواح کے وجود اور ان کی طاقتوں کے بھی قائل ہیں اور بعض تو اپنے آباؤ اجداد کی پرستش بھی کرتے ہیں۔تا ہم ہمارے نزدیک کنفیوشن ازم کے مروجہ تصور کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے۔جب اس ابتدائی تحریری مواد کا مطالعہ کیا جاتا ہے جس پر کنفیوشن ازم کی بنیاد ہے تو اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ یہ مذہب بھی ہستی باری تعالیٰ کے مسلمہ عقیدہ پر قائم تھا اور یہ کہ اس کے فلسفہ اور دانائی کا بڑا حصہ دانش مند لوگوں کی سوچ کی بجائے الہام الہی کا مرہون منت ہے۔اس بات کا اندازہ کہ یہ مذہب اپنے آغاز سے کس قدر دور جا چکا ہے، ارواح پرستی کے اس رواج سے لگایا جا سکتا ہے جو موجودہ دور کے کنفیوشس کے پیروکاروں میں عام ہے حالانکہ حضرت کنفیوشس کی ابتدائی تعلیمات میں اس قسم کے تو ہماتی اعتقادات اور رسوم کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا۔چنانچہ دیگر مذاہب کی طرح کنفیوشن ازم بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اصل 135