الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 87
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 87 گیا ہے۔در حقیقت سقراط کی شخصیت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔اگر کسی قسم کا کوئی تضاد ہے تو وہ بہر حال مصنف کے ذہن میں ہے جو یہ کہہ کر بظاہر سقراط کا دفاع کرتا ہے کہ اس کے وہم اتنے برے نہیں تھے جیسا کہ ایسے پہنی معذوروں کے ہوا کرتے ہیں جو دماغی خلل کا شکار ہوتے ہیں۔نیز یہ کہ صحیح الدماغ لوگ بھی سقراط کی طرح بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتے ہیں۔سقراط کے ساتھ یہ بھی کیا خوب ہمدردی ہے کہ ایک جدید مصنف نے سقراط کی شخصیت کو تسلیم تو کیا ہے لیکن سقراط کے خدا پر ایمان کو تسلیم نہیں کیا۔یہ تبصرہ اپنی جگہ خواہ کتنا ہی ہمدردانہ کیوں نہ ہو، سقراط کے لئے اسے خراج تحسین نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی سقراط کو اس سلسلہ میں کسی معذرت کی ضرورت ہے۔کیا سقراط سے پہلے اور بعد میں آنے والے سب انبیاء کے ساتھ یہی سلوک روا نہیں رکھا گیا ؟ کیا ان میں سے ہر ایک پر اس کی قوم نے یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ اوہام کا شکار ہے؟ اگر چہ اتنی تہذیب اور شرافت سے ان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا جیسا کہ مذکورہ بالا تحریر کے مصنف نے سقراط پر لگایا ہے۔ایسے تمام الزام تراش خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ جن انبیاء پر وہ یہ تہمت لگا رہے ہیں وہ نہ تو کسی دماغی کمزوری کا شکار ہیں اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے کم تر ہیں۔یہ اپنے زمانہ کے سب سے زیادہ دانا لوگ تھے۔صحت مند دل و دماغ کے مالک تھے اور اس معاشرہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے جس میں وہ اپنا بچپن گزار کر بلوغت کی عمر کو پہنچے تھے۔دعوی نبوت سے پہلے کبھی بھی ان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ ان کا طرز عمل نجومیوں جیسا تھا اور نہ ہی دعوی کے بعد کسی نبی کے متعلق اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ وہ فریب نظر کا شکار ہوا ہو۔اوہام تو غیر یقینی ، بے ربط اور بے جوڑ ہوا کرتے ہیں۔وہم میں مبتلا بعض لوگوں کو شاید کچھ آوازیں یہ پیغام دیتی ہیں گویا وہ خدا کی طرف سے ہیں۔لیکن ان آوازوں میں کبھی بھی کوئی علم و حکمت اور دانائی کی بات نہیں پائی جاتی اور نہ ہی ان سے کبھی کسی نے کوئی ایسا طرز حیات سیکھا جس کو دوسرے بھی اپنا سکیں۔اور جو کچھ وہ سنتے ہیں اس میں کوئی منطق نہیں پائی جاتی اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ معقولیت سے خالی ہوتا ہے۔کیونکہ وہم کبھی معقولیت کو جنم نہیں دے سکتا۔و ہم کو پیشگوئی کہنا دراصل وحی الہی کے مقام اور مرتبہ کو گرانے کی ایک نا پاک کوشش ہے۔انبیاء کا تجربہ تو بالکل مختلف ہوتا ہے۔سچائی ، دانائی اور معقولیت ان کی امتیازی خصوصیات ہوتی ہیں