الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 88

88 یونانی فلسفه جبکہ ان کا مخالف معاشرہ بے بنیاد عقائد، جھوٹ اور تو ہم پرستی سے عبارت ہوتا ہے۔انبیاء کا پیغام ہمیشہ ایک اعلیٰ ضابطہ اخلاق پرمبنی ہوتا ہے۔ان کے لبوں سے حکمت کے سرچشمے پھوٹتے ہیں۔وہ مجسم نیکی اور تقویٰ ہوتے ہیں اور ہمیشہ معقول بات کرتے ہیں۔وہ اخلاق فاضلہ، انصاف، اعتدال، صلح، شفقت علی خلق اللہ، صبر، خدمت اور قربانی کی تعلیم دیتے ہیں۔کیا ایسی مقدس تعلیم انہیں اپنی وہمی کیفیت میں سوجھتی ہے؟ کیا خوب اوہام ہیں! کاش انبیاء پر ایسا الزام لگانے والوں کو بیماری مثلاً شدید بخار یا ٹائیفائیڈ وغیرہ کے دوران محسوس ہونے والے اوہام یاد ہوتے۔کیا کبھی انہیں کسی وقت ہذیان کے دوران کوئی ایسا اعلیٰ ضابطہ حیات ملا ہے جس کی صداقت شک وشبہ سے بالا ہو اور جس میں بنی نوع انسان کیلئے کوئی ایسا پیغام ہو جسے سنجیدگی سے قبول کیا جائے؟ ایک صحتمند دماغ میں معقولیت اور وہم کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔کاش سقراط پر وہم میں مبتلا ہونے کا الزام لگانے والے خود اپنے تجربات کی روشنی میں مزید وضاحت کر دیتے۔کیا کسی صحیح الدماغ شخص نے کبھی ہذیان کے دوران کوئی فلسفہ حیات سیکھا ہے؟ کاش مصنف کو یاد ہوتا کہ سقراط نے حکمت و دانائی ، نیکی اور تقوی ، معقولیت اور ایمان کا جو پاک نمونہ دکھایا تھا وہ اس نے انہی آوازوں سے سیکھا تھا جنہیں وہم قرار دیا جاتا ہے! اگر وحی والہام پر اس کے ایمان کو وہم قرار دے کر رد کر دیا جائے تو پھر اس کے تمام فلسفہ حیات اور اس کی ساری حکمت و دانائی کو اسی بنیاد پر مستر د کرنا پڑے گا۔سقراط کو کبھی بھی اس کے معقولیت کے مقام سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ہم سقراط کی شخصیت کے ہر پہلو کے معترف ہیں۔اس کا کردار نہایت اعلیٰ تھا اور صحیح نظر تعظیم الشان۔اس نے ایسی پاکیزہ زندگی گزاری جو اوہام پرمبنی نہیں ہوتی۔اس نے سلامتی کے ساتھ جنم لیا، سلامتی کے ساتھ زندہ رہا اور سلامتی کے ساتھ ہی مسکراتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی جبکہ اس سے محبت کرنے والے اس کے گرد کھڑے سسکیوں، آہوں اور چیخوں میں اسے الوداع کہہ رہے تھے۔ایتھنز نے کبھی اس جیسی پاک روح کو رخصت ہوتے نہیں دیکھا تھا۔خدا اس سے راضی ہو اور اس پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔مگر اس کے قاتلوں پر افسوس کہ ایتھنز کوسقراط جیسا عظیم انسان کبھی دوبارہ دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔