الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 86

86 یونانی فلسفه نے اس کی تعلیم اور زندگی کا ریکارڈ رکھا جو بعد ازاں مکالموں کی شکل میں ضبط تحریر میں لایا گیا۔حضرت بدھ پر بھی برہمنوں کے دیوتاؤں کے انکار کی وجہ سے دہریت کا الزام لگایا گیا تھا۔سقراط نے فلسفہ کی جو عظیم ترین خدمت سرانجام دی اس کا خلاصہ چیمبر ز انسائیکلو پیڈیا میں درج ذیل الفاظ میں دیا گیا ہے: فلسفہ کو آسمان کی بلندیوں سے اتار کر ایک عام انسان کی زندگی سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلہ میں سقراط کی مخلص اور عظیم کوششیں (جیسا کہ سرو Ciccro نے کہا ہے ) اس کے عہد میں ایک نیا علمی رخ اختیار کر گئی تھیں۔23<< سے دنیوی آسائشوں سے کوئی رغبت نہ تھی۔لیکن اس کے باوجود وہ تارک الدنیا بھی نہ تھا۔23 سقراط پر نازل ہونے والے الہام کی حیثیت کے بارہ میں مندرجہ بالا مضمون کا مصنف رقمطراز ہے کہ: وہ آسمانی نشان جس کو سقراط مافوق الفطرت آواز کہا کرتا تھا اور جو اکثر اس کی رہنمائی کرتی تھی اس سے متعلق بہت بحث کی گئی ہے۔زینوفون کے نزدیک یہ آواز سقراط کو کچھ کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیتی تھی۔افلاطون کے خیال میں اسے کچھ کرنے سے تو باز رکھتی تھی لیکن کسی عمل کا محرک نہیں تھی۔البتہ بعد میں آنے والے مصنفین بالخصوص عیسائیت کے دور میں بعض لوگوں نے اسے ایک نہایت ذہین اور ساتھ رہنے والی شیطانی روح کا وجود قرار دے دیا۔مگر اس کی کوئی بھی سند افلاطون یا زیوفون کے پاس نہیں۔23 وو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سقراط کو مستقبل میں ہونے والے واقعات کا یقینی علم ہو جاتا تھا جو اس کے خیال میں الہی انذار کے مترادف تھا اور ایسا ممکن ہے۔کیونکہ کہا جاتا ہے کہ بقول ان کے سقراط کو کبھی کبھار یہ وہم ہوتا تھا کہ اسے کچھ آواز میں سنائی دے رہی ہیں جیسا کہ بعض اوقات ایک صحیح الدماغ انسان بھی اس قسم کے تجربہ سے گزرسکتا ہے۔23 یوں سقراط کے الہامات کو ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے وہم قرار دے کر رڈ کر دیا