الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 85

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 85 مذمت کرتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک زندگی خدا تعالیٰ کی عطا ہے اور وہی اس کا واحد مالک بھی ہے۔فیڈو (Phaedo) میں وہ قوی دلائل کے ساتھ خود کشی کے قانونی جواز کے خلاف مفصل بحث کرتا ہے۔اس کے نزدیک خود کشی قطعی طور پر ایک نا قابل معافی جرم ہے۔چنانچہ اس مسئلہ پر وہ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہتا ہے: عقل کا تقاضا ہے کہ انسان کو خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ انتظار کرنا چاہئے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس کو بلائے جیسا کہ وہ مجھے بلا رہا ہے۔21 اس کی گفتگو کے دوران کرائٹو (Crito) نے دخل اندازی کر کے زہر پلانے پر متعین ملازم کی طرف سے کہا کہ زیادہ باتیں کرنے کی وجہ سے زہر کا اثر کم ہو جائے گا اور دو تین بار زہر دینا پڑے گا۔سقراط نے اس تنبیہ اور اپنی اس تکلیف کی جو اسے پہنچ سکتی تھی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی اور ملازم سے کہا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اور دو تین بار زہر پلانے کے لئے تیار رہے۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے سقراط نے کہا: ”میرے منصفو! اب میں تمہاری بات کا جواب دیتا ہوں۔منصفو کہہ کر وہ اپنے ان مداحوں کو مخاطب کرتا ہے جو اس کے آخری لمحات میں اس کے گرد جمع تھے۔اور تمہیں دکھاتا ہوں کہ وہ شخص جو ایک بچے حکیم اور فلسفی کے طور پر زندہ رہا جب مرنے لگا ہے تو اسے سکیت و اطمینان حاصل ہے اور موت کے بعد دوسری دنیا میں بھی بہترین خیر و برکت کے حصول کی امید کر سکتا ہے۔“ 22 یوں سقراط ایتھنز کے لوگوں کو علم و معرفت کا درس دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے زہر کا پیالہ اپنے لبوں سے لگا لیا۔آہستہ آہستہ اس کے جسم سے جان نکل رہی تھی۔لیکن جب تک اس میں بولنے کی سکت رہی وہ اپنا مقدس فریضہ برابر ادا کرتا رہا یہاں تک کہ موت نے اسے خاموش کر دیا۔یوں خدا کے ایک عظیم الشان نبی کی زندگی اختتام کو پہنچی۔سقراط کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔اس لحاظ سے وہ حضرت بدھ علیہ السلام کا ہمعصر تھا اور حضرت بدھ ہی کی طرح اس نے بھی اپنی تعلیمات کے بارہ میں خود کچھ نہیں لکھا بلکہ اس کے ساتھیوں اور ہمعصروں مثلاً افلاطون