الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 82

82 جية يوناني فلسفه سے کرتا ہے جن کیلئے جمع کا صیغہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سقراط خدا (god) کا لفظ جمع کے صیغہ میں استعمال کرتا ہے تو اس سے ہمیشہ یونانی دیوتا جو محض اہل ایتھنز کے تخیل کی پیداوار تھے، مراد نہیں ہوتے۔بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ gods کی اصطلاح سے بعض اوقات اس کی مراد فرشتے یا خدا تعالیٰ کے ماتحت مافوق البشر دیگر روحانی وجود بھی ہوتے ہیں۔تاہم جب وہ اپنے روحانی تجربہ کا ذکر کرتا ہے تو جمع کے صیغہ کو کلینڈا ترک کر کے ایک خدا کا حوالہ دینے لگتا ہے۔چنانچہ وہ کہتا ہے کہ: میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کے حضور جو خدمت بجالانے کی توفیق ملی ہے اس سے بڑھ کر کوئی خیر کبھی تم پر نازل نہیں ہوئی۔15 (سقراط کو سونپے گئے مشن کے حوالہ سے یہاں خدا تعالیٰ کا واحد کے صیغہ میں استعمال قابل غور ہے )۔سقراط کا مذہبی اور سیاسی فلسفہ آسمانی تعلیمات کے عالمی انداز سے ہمیشہ ہم آہنگ رہا۔تاریخ کسی بھی ایسے نبی کا ذکر نہیں کرتی جس نے ملکی قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہو۔لیکن جب بھی ریاست خدا تعالیٰ کی اطاعت کے راستہ میں حائل ہوئی تو انبیاء نے اسے بلا خوف و تردد رد کر دیا اور خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوئے۔سقراط کا بھی بالکل یہی فلسفہ تھا۔وہ ریاست کا کامل فرمانبردار تھا لیکن جب یہ وفاداری اطاعت خداوندی سے متصادم ہوئی تو پھر اس کا دوٹوک فیصلہ تھا کہ وہ اس وفاداری کو جو خالق کا حق ہے ریاست کی وفاداری پر ترجیح دے گا۔اس نے سزائے موت سنانے والے ایوان کے سامنے پورے سکون اور وقار کے ساتھ کہا: ہیتھر کے لوگو! مجھے تم سے بہت پیار ہے اور میں تمہاری عزت کرتا ہوں لیکن اطاعت میں خدا ہی کی کروں گا، تمہاری نہیں۔اور جب تک میں زندہ ہوں حکمت و دانائی کی تعلیم دینے اور اس پر عمل کرنے سے نہیں رکوں گا۔16 یہ بات قابل غور ہے کہ جو وٹ Jowett سقراط کے تعلق میں خدا تعالیٰ کا نام ہمیشہ بڑے G' کے ساتھ یعنی God لکھتا ہے۔