الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 81

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 81 تا ہم ولاسٹوز نے اسی اقتباس سے جو نتیجہ نکالا ہے وہ شاعر کو عقل سے بیگانہ قرار دینے کی بجائے قاری ہی کو احمق بنا دیتا ہے: ” جب دیوتا شاعر کے وجود میں داخل ہو جائے تو شاعر عقل سے عاری ہو جاتا ہے۔114 کا کا پھر ولاسٹوز سقراط پر لگائے گئے الزام کو کہ وہ عقلیت پسند نہیں ہے یہ کہہ کر رد کرتا ہے کہ: سقراط نے اس غیر منطقی اعتقاد کو توڑ کے رکھ دیا کہ مافوق الفطرت دیوتا انسان کے ساتھ مافوق الفطرت ذرائع سے رابطہ رکھتے ہیں۔12 جب ولا سٹوز اس امر کا اطلاق سقراط کے اپنے روحانی، تجارب پر کرتا ہے تو ہم بڑے ادب سے پر زور طریق پر اختلاف کرتے ہیں۔لطف یہ ہے کہ لوگوں کو مافوق الفطرت ذرائع سے حاصل ہونے والے احکامات کی حقیقت کے متعلق مصنف نے جو نتیجہ نکالا ہے اس سے صرف دو صفحات آگے چل کر وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے بارہ میں سقراط کا تصور مختلف تھا۔وہ کہتا ہے: ”جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سقراط کا خدا ان کے دیوتاؤں سے قطعا مختلف ہے۔سقراط کا خدا دائگی خیر ہے۔وہ کسی کے ساتھ کسی بھی وقت کسی قسم کی بھی برائی نہیں کرتا۔اور چونکہ کسی کو دھو کہ دینا اس کے ساتھ برائی کرنے کے مترادف ہے اس لئے سقراط کا خدا جھوٹ نہیں بول رہا۔13 اسی باب میں آگے چل کر سقراط کی طرف وہ عبادت کا ایک ایسا تصور منسوب کرتا ہے جو 40 اہل ایتھنز کے عبادت کے تصور سے قطعاً مختلف ہے۔مصنف کے نزدیک ایتھنز کے رہنے والوں کی عبادت: 14<< دیوتاؤں اور انسانوں کے مابین تجارتی لین دین تک ہی محدود تھی۔144 ایتھنز کے باشندوں کی عبادت بہر حال مسترد کئے جانے کے قابل تھی۔کیونکہ ان کے نزدیک دیوتا ان چڑھاووں کے محتاج تھے جو یہ لوگ قربان گاہوں پر چڑھایا کرتے تھے۔مگر سقراط اپنے خدا کے بارہ میں جسے مصنف نے غلط طور پر دیوتاؤں سے تعبیر کیا ہے، کہتا ہے: 14۔< ” ہمارے تحائف کی اسے ضرورت نہیں، بلکہ ہم اس کی عطا کے محتاج ہیں۔4 یہ امر ظاہر ہے کہ سقراط اہل ایتھنز کی عبادت کا ذکر ان کے خداؤں یا دیوتاؤں کے حوالہ