الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 83

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 83 جب اہل ایتھنہ نے اس شرط پر سقراط کی سزائے موت ختم کرنے کی پیشکش کی کہ وہ ایتنر کے دیوتاؤں کی نافرمانی اور اپنے خدا کی اطاعت کی تعلیم دے کر نو جوانوں کو بگاڑنا چھوڑ دے تو اس نے فی الفور اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔اس بارہ میں سقراط اور اس کے بڑے مخالف وکیل میلٹس (Meletus) کے مابین ایک طویل مکالمہ موجود ہے۔میلٹس اس بات پر مصر ہے کہ خدائے واحد پر ایمان کے دعوی کے باوجود سقراط کا ایتھنز کے دیوتاؤں کا کھلم کھلا انکار سراسر دہریت کے خلاف ہے جس کی وجہ سے اسے ضرور سزائے موت ملنی چاہئے۔اس مقام پر سقراط کا خدا تعالیٰ کی اطاعت کا مرتبہ ایتھنز کے مروجہ قوانین کی اطاعت کے مقابلہ پر بہت بلند اور ارفع تھا۔وہ اس کی خاطر جیا اور اسی پر اپنی جان قربان کر دی۔لیکن اپنی موت سے پہلے اس نے ایتھنزر کے لوگوں کو پیغمبرانہ شان کے ساتھ یوں انذار کیا: ممکن ہے تمہارا یہ خیال ہو کہ مجھے سزا دے کر تم خدا کے حضور کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کر رہے یا اس کی کسی نعمت کو جھٹلا نہیں رہے۔لیکن یا درکھو اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تمہیں میرے جیسا انسان آسانی سے نصیب نہیں ہوگا۔17 یہ کہنے کے بعد سقراط نا قابل تردید دلائل کے ساتھ اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بالآخر ایک ایسی دلیل دیتا ہے جو ہمیشہ سقراط کی عظمت کو سلام کرتی رہے گی۔جووٹ نے سقراط کے ان الفاظ کو یوں درج کیا ہے: مجھ پر الزام لگانے والے اپنی تمام تر گستاخیوں کے باوجود یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکے کہ میں نے کبھی کسی سے کوئی اجر طلب کیا ہے۔ان کے پاس اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی شہادت نہیں ہے لیکن میرے قول کی صداقت پر میرا ایک گواہ ہے، یعنی میری غربت۔اور یہ ایک کافی گواہ ہے۔17 سقراط اپنے ماضی کے کردار کو اپنے موجودہ کردار کی سچائی پر بطور شہادت پیش کرتا ہے۔پھر وہ ایک گزشتہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سقراط ہی وہ واحد آدمی تھا جس نے سارے ایوان اقتدار کی مخالفت کی جرات کی، یہ اعلان کرتا ہے: