الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 80

80 یونانی فلسفه نے اپنے کسی الہام کے حوالہ سے کہیں بھی کسی oracle کا ذکر نہیں کیا۔وہ جب بھی اپنے ذاتی تجربہ کی بات کرتا ہے تو ہمیشہ وہ اللہ تعالیٰ (God) کا لفظ واحد کے صیغے میں اور احترام کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔وہ کسی مرحلہ پر بھی خدائے واحد کو دیوتا نہیں کہتا۔البتہ جب وہ شعراء کے تخیلات کو God-givon یعنی خداداد قرار دیتا ہے تو یہ محض ایک طرز بیان ہے ورنہ یہ مراد نہیں کہ وہ واقعی خدا کی باتیں ہیں۔33 یہ درست ہے کہ ایک شاعر آمد اور روانی مطبع کی حالت میں ایک حیران کن نظم کہہ جاتا ہے تو کن اسے تحفہ خداوندی تو کہا جا سکتا ہے مگر نہ تو یہ علم ہے اور نہ ہی اسے علم کہا جا سکتا ہے۔شاعری 10% با قاعدہ فکر کا نتیجہ نہیں ہوا کرتی سقراط کی یہ تنقید کہ شاعری علم نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے علم قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ فکر سے خالی ہوتی ہے، درست بات ہے کیونکہ عام شاعرانہ پیرایۂ اظہار یقیناً ایسا ہی ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اشعار میں ایک قسم کا جادو ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے شاعر کی زبان سے خدا کلام کر رہا ہو۔مگر ایک معتدل صاحب فہم آدمی اسے اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔سقراط جب ایک شاعر کے متعلق کہتا ہے کہ اس پر دیوتاؤں کا تصرف ہے تو وہ دراصل اہل ایتھنز کے ان تو ہم پرستانہ نظریات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جن کے مطابق بعض لوگوں پر دیوتا قبضہ کر لیتے تھے۔اس قسم کے فقرات اور اس زبان میں جو سقراط نے اپنے لئے استعمال کی ہے، بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔سقراط نے خدا تعالیٰ کی شان میں کبھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو سقراط سے اپنے ایک عاجز بندہ کی حیثیت سے ہمکلام ہوا۔سقراط نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ بعض اوقات شعری تجربہ کے متعلق یوں لگتا ہے جیسے یہ ایک روحانی تجربہ ہو لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا۔شعری تجر بہ خواہ کتنا بھی اہم کیوں نہ ہو، زیادہ سے زیادہ اسے ایک وجدانی کیفیت تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اسے کسی صورت میں الہام الہی نہیں کہا جا سکتا۔” مجھے جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ شعراء کا کلام علم پر بنی نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک قسم کا فطری ملکہ ہے جس کے ذریعہ وہ ایک وجدانی حالت میں شعر کہتے ہیں۔11